بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان صارفین کیلئے نئی مشکل
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
آئی ایم ایف شرط پر بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان صارفین کیلئے نئی مصیبت آگئی ، جس سے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، آئی ایم ایف شرط پر بجلی بلوں میں صارفین کیلئے اضافی سرچارج عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
بجلی بلوں پر وزارت توانائی کو اضافی سرچارج عائد کرنے کی فنانس بل میں منظوری دی گئی۔
سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس میں سرچارج پر وزارت توانائی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا اسوقت زیادہ سے زیادہ 3 روپے 23 روپے تک سرچارج عائد ہے اور کم سے کم سرچارج 2 روپے 83 پیسے تک عائد ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ سرچارج عائد کرنے کیلئے کیپ کو ختم کر رہے ہیں جس سے مزید سرچارج عائد ہو گا۔
حکام نے مزید کہا کہ گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے کمرشل بینکوں سے1270 روپے قرض لیا گیا، کمرشل بینکوں کو قرض کی واپسی کیلئے صارفین سے اضافی رقم وصول ہو گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےخزانہ سے اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سرچارج عائد کرنے کی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔