سالانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ پینشن پر ٹیکس کی تجویز منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سالانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ پینشن پر ٹیکس کی تجویز منظور کرلی۔
قائمہ کمیٹی خزانہ کا سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔
قائمہ کمیٹی نے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو انکم ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز منظور کر لی۔
بل کے متن کے مطابق گریڈ 17 اور بالا کے افسران اپنے، شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے ڈیکلیئر کریں گے
اقتصادی زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔
اس موقع پر سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ خصوصی ٹیکنالوجی زونز کا پودا ابھی لگایا ہے، حکومت نے خصوصی ٹیکنالوجی سے ٹیکس چھوٹ واپس لے لی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ جہاں جہاں ٹیکس چھوٹ ہے اسے ختم کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔