دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت پر مبنی جزیرہ، جہاں انسانی حکمرانی نہیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا اس وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں داخل ہو چکی ہے، جہاں انسانوں کے فیصلے، گفتگو اور حتیٰ کہ حکومتیں بھی اب ڈیجیٹل دماغوں کے رحم و کرم پر ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے اس انقلابی دور میں ایک حیران کن تجربہ منظر عام پر آیا ہے جہاں دنیا کی پہلی مکمل طور پر اے آئی پر مبنی حکومت قائم کی گئی ہے۔ یہ حکومت کسی خواب یا سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ ایک حقیقی جزیرے پر وجود میں آ چکی ہے، جس کا نام ہے ’’سنسے آئی لینڈ‘‘۔
فلپائن کے قریب واقع اس چھوٹے مگر ٹیکنالوجی سے بھرپور جزیرے کو سنسے (Sensei) نامی کمپنی نے خرید کر ایک ایسا منصوبہ شروع کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ جزیرہ جو پہلے Cheron Island کہلاتا تھا، اب اسے باضابطہ طور پر ’’سنسے آئی لینڈ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ سنسے ایک ایسی کمپنی ہے جو تاریخی شخصیات کی ڈیجیٹل نقول بنانے میں مہارت رکھتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حقیقی انسانی شخصیات کی سوچ، فیصلوں اور اصولوں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔
اس وقت جزیرے کی حکومت میں 17 تاریخی شخصیات شامل ہیں، جنہیں اے آئی ماڈلز کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخصیت کسی نہ کسی اہم حکومتی عہدے پر فائز ہے۔ مثال کے طور پر روم کے عظیم فلسفی بادشاہ مارکوس اوریلیوس کو ریاست کا صدر منتخب کیا گیا ہے جب کہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قدیم چین کے عظیم فوجی رہنما سن زو کو وزیر دفاع کا کردار دیا گیا ہے اور جنوبی افریقی لیڈر نیلسن منڈیلا وزیر انصاف کے طور پر ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
کمپنی کے مطابق ان تمام ڈیجیٹل شخصیات کو ان کی اصل زندگی، فکر و فلسفہ، تقاریر، تحریریں اور تاریخی پس منظر کی بنیاد پر تربیت دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے ان کے ہزاروں صفحات پر مشتمل خطبات، خطوط اور سوانح عمری کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، تاکہ ان کی سوچ کا عکس ڈیجیٹل طور پر پیش کیا جا سکے۔ یوں ایک مکمل کابینہ تیار کی گئی ہے جو انسانی سیاست دانوں کی طرح فیصلے کرتی ہے، مگر بغیر کسی سیاسی مفاد، ذاتی تعصب یا جذباتی دباؤ کے۔
سنسے کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی قیادت کے لیے کس قدر مفید اور مؤثر ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول ایسی حکومت جو جذبات اور مفادات سے پاک ہو، زیادہ شفاف، جلد فیصلہ کن اور عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ نہ وہاں بیوروکریسی کی تاخیر ہے، نہ پارلیمانی جوڑ توڑ، نہ ہی کوئی ووٹ بینک۔ صرف ڈیٹا، منطق اور اخلاقیات کی بنیاد پر پالیسیاں ترتیب دی جاتی ہیں۔
جزیرے کا رقبہ 3.
اگر کوئی اس منصوبے سے متعلق جاننا چاہے تو وہ سنسے آئی لینڈ کی ویب سائٹ پر اس ’’ڈیجیٹل مینیجر‘‘سے بات کر سکتا ہے۔
فی الوقت وہاں سیاحت کی اجازت دی جا رہی ہے، یعنی آپ اس انوکھے اے آئی ملک کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ وہاں سفر نہ کر سکیں، تو بھی سنسے آئی لینڈ نے ’’ای ریزیڈنسی‘‘کا تصور متعارف کرایا ہے، جس کے تحت کوئی بھی فرد خود کو ڈیجیٹل شہری کے طور پر رجسٹر کرا سکتا ہے۔ اس حیثیت میں صارفین حکومت کو نئی پالیسیاں تجویز کر سکتے ہیں، ان پر رائے دے سکتے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا کا ایک حصہ بن سکتے ہیں۔
سنسے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈین تھامسن کے مطابق یہ منصوبہ صرف مصنوعی ذہانت کو نئی سمت میں لے جانے کی کوشش نہیں بلکہ انسانی سماج کی اگلی نسل کی تیاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایسے وقت میں داخل ہو رہے ہیں جہاں سیاست، قانون سازی اور حکمرانی کے روایتی ماڈلز تیزی سے غیر مؤثر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اے آئی جیسے ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈلز ہی مستقبل کے بہتر، شفاف اور مؤثر نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
یقیناً یہ منصوبہ کئی سوالات بھی جنم دیتا ہے۔ کیا اے آئی حکومت انسانی حساسیت، جذبات اور زمینی حقائق کو سمجھ سکے گی؟ کیا یہ ڈیجیٹل حکمران غلطی سے مبرا ہوں گے؟ کیا ان کے فیصلے جمہوری اقدار سے ہم آہنگ ہوں گے یا صرف ڈیٹا کی زبان میں بات کریں گے؟ ان سب سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں، مگر سنسے آئی لینڈ نے دنیا کو ایک نئی بحث اور نئی سمت میں دھکیل دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سنسے آئی لینڈ کے طور پر سکتے ہیں رہے ہیں اے ا ئی گیا ہے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم