احتساب عدالت کی سزا کیخلاف اپیل، پی ٹی آئی بانی و اہلیہ کی درخواست پر سماعت کی تاریخ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے بانی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر سزا معطلی کی درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 26 جون کی تاریخ مقرر کردی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے سماعت کی کاز لسٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق سزا معطلی کی ان درخواستوں پر قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سرفراز علی ڈوگر اور جسٹس محمد آصف سعید کی دو رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
قابل ذکر ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو پہلے ہی نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے ان سے اس معاملے پر جواب طلب کر رکھا ہے۔ نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سماعت تک کیس سے متعلق اپنا موقف پیش کرے۔
واضح رہے کہ 17 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں سابق وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی تھی۔ نیب کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے برطانیہ سے واپس بھیجی گئی خطیر رقم، جو دراصل قومی خزانے میں جمع کرائی جانی تھی، اسے غیرقانونی طور پر القادر ٹرسٹ کے ذریعے استعمال کیا اور اس کا ذاتی مفاد میں فائدہ حاصل کیا۔
عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے بعد نہ صرف ملزمان کو عارضی ریلیف ملنے یا انکار کی صورت میں قانونی پیچیدگیاں بڑھنے کا امکان ہے، بلکہ یہ سماعت آئندہ قانونی اور سیاسی منظرنامے پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ کیس اس وقت منظرعام پر آیا تھا جب برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے 190 ملین پاؤنڈ پاکستان منتقل کیے تھے، جنہیں نیب کے مطابق شفاف طریقے سے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ذاتی ٹرسٹ میں منتقل کر کے استعمال کیا گیا۔
مزید قانونی کارروائی 26 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی، جس کے بعد کیس کی آئندہ سمت واضح ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے مطابق
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت