ایران نے اسرائیلی ہسپتال کو نشانہ بنانے کا صیہونی دعویٰ جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے اسرائیلی ہسپتال کو نشانہ بنانے کا صیہونی دعویٰ جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے بیان میں کہا کہ حق دفاع میں مخصوص اسرائیلی اہداف پر حملے کر رہے ہیں، ایسے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ایران پر حملوں میں ملوث ہیں، اسرائیل کی طرح شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔
مشن نے واضح کیا کہ حق دفاع استعمال کرتے ہوئے ایران کی جانب سے عالمی قوانین کے پاسداری کے تحت مخصوص اہداف پر حملے کئے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ جمعرات کو ایران کے تازہ میزائل حملوں سے ہونے والی تباہی کے بعد اسرائیلی وزیراعٖظم نیتن یاہو نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی میزائلوں نے سروکا ہسپتال اور وسطی اسرائیل میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا، اس حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
انتہائی درستگی کے ساتھ اسرائیل پر حملے کئے: ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی کمان، کنٹرول، انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز اور ایک اہم ہدف کو نشانہ بنایا، دھماکے سے ملٹری ہسپتال کے ایک چھوٹے سے حصے کو معمولی نقصان پہنچا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی شہری ہماری جانب سے دی گئی انخلا کی ہدایات پرعمل کریں، اسرائیلی شہری فوجی و انٹیلی جنس مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں، ہماری فوج ایرانی عوام کو نشانہ بنانے والے مجرموں کو نشانہ بناتی رہے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے سینکڑوں بے گناہ ایرانیوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے، ایرانی میڈیا نے بتایا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 639 افراد شہید ایک ہزار 220 زخمی ہوئے۔
آیت اللہ خامنہ ای کو دھمکی دینا ناقابل قبول ہے: ایرانی سفیر رضا امیری مقدم
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا، اسرائیل سنجیدہ بات چیت چاہتے ہیں تو پہلے جنگ ختم کریں، ایران نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ اسرائیل کمزور اور بے بس ہو چکا ہے، اسرائیل جنگ میں امریکا کو گھسیٹنا چاہتا ہے، اگر کوئی ملک اس جنگ میں شامل ہوا تو ایران جواب دے گا، امریکا دانشمندی سے کام لے اور نیتن یاہو کے ہاتھوں میں نہ کھیلے۔
ایرانی سفیرکا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی تنصیبات پر حملہ عالمی ماحول اور خطے کیلئے شدید خطرناک ہوگا، ایٹمی ایجنسی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ اسرائیل کو نشانہ کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔