پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور اس کے نتیجے میں ملک خطرناک حد تک پانی کی قلت کا شکار ہو چکا ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور بارشوں کی کمی نے آبی ذخائر کو خطرناک حد تک کم کر دیا ہے، جن میں خانپور ڈیم سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے 86 فٹ بلند، اضافہ جاری

خانپور ڈیم، جو خیبرپختونخوا اور پنجاب کے لیے نہری آبپاشی اور پینے کے پانی کا اہم ذریعہ ہے، اس وقت صرف 9.

67 فٹ قابل استعمال پانی پر پہنچ چکا ہے۔ اس کا موجودہ سطح 1982 فٹ سے گر کر 1919 فٹ تک آ گئی ہے، جو کہ ڈیڈ لیول 1910 فٹ کے انتہائی قریب ہے۔

اس وقت ڈیم میں صرف 25 دن کا پانی رہ گیا ہے

پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے نہری پانی کی فراہمی بند ہو چکی ہے، جس کے باعث نہر خشک ہو گئی ہیں اور خانپور کے باغات پیاس سے مرجھا گئے ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کو پانی فراہم کرنے والی ادارہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کو اس وقت صرف 50 کیوسک پانی مل رہا ہے، جو موجودہ ان فلو (صرف 25 کیوسک) برقرار رہنے کی صورت میں جلد مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔

خانپور ڈیم سے اس وقت 103 کیوسک پانی خارج کیا جا رہا ہے، جس سے پانی کی سطح میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت بارشیں نہ ہوئیں تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں پینے کے پانی کا شدید بحران جنم لے سکتا ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔

ماہرین نے حکومت سے ہنگامی اقدامات کی اپیل کی ہے تاکہ ممکنہ انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پانی کا بحران خانپور ڈیم ڈیڈ لیول

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پانی کا بحران خانپور ڈیم ڈیڈ لیول خانپور ڈیم ڈیڈ لیول پانی کی

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے