پنجاب حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کے لیے ہاؤسنگ قرضوں کے بجٹ میں 85 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے بجٹ میں نواز شریف کے نام سے کتنے منصوبے رکھے گئے ہیں؟

سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق اس مد میں آئندہ مالی سال کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مالی سال 25-2024 کے نظرثانی شدہ تخمینے میں یہ رقم 15 کروڑ روپے تھی۔ البتہ گزشتہ سال کے آغاز میں بھی ابتدائی بجٹ میں 1 ارب روپے رکھے گئے تھے، جو بعد میں کم کردیے گئے۔

یہ قرضے سرکاری ملازمین، بالخصوص ہائیکورٹ کے ججوں کو رہائشی مکانات کی تعمیر یا خریداری کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔ مذکورہ اخراجات کو ’چارجڈ اخراجات‘ میں شامل کیا گیا ہے، جن کی ادائیگی براہ راست صوبائی خزانے سے ہوتی ہے اور انہیں منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں افسران اور مہمانوں کے کھانے پینے کے لیے کتنے کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا؟

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ججوں کو معیاری رہائشی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ وہ بہتر ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سرانجام دے سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ پاکستان پنجاب اسمبلی ججز لاہور ہائیکورٹ ہاؤسنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پنجاب اسمبلی لاہور ہائیکورٹ ہاؤسنگ کے بجٹ میں کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ