پاکستان کو چاہیئے کہ باری کا انتظار کرنے کے بجائے کھل کر ایران کا ساتھ دے، علامہ باقر زیدی
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
صوبائی صدر ایم ڈبلیو ایم سندھ نے کہا کہ اسرائیل اگر خطہ میں ایران کو کمزور کردیتا ہے تو کل اسلامی ایشیائی ممالک بھی نہیں بچیں گے، حالیہ جنگ اسلامی ممالک اور اسلام کی بقا کی جنگ ہے، پاکستان، سعودیہ، عرب امارات سمیت تمام ممالک صہیونی عزائم کا اگلہ ہدف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی قوم عاشورائی و کربلائی عزم رکھتی ہے، حسینی عزم رکھنے والے کبھی کسی ظالم کی بیعت نہیں کرتے، امریکہ و اسرائیل کے خطہ میں حکمرانی کے خواب کبھی پورے نہیں ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صدر علامہ باقر عباس زیدی نے بیان میں کیا۔ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں بعد نماز جمعہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے و ریلیاں نکالی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم عاشورائی و کربلائی عزم رکھتی ہے، حسینی عزم رکھنے والے کبھی کسی ظالم کی بیعت نہیں کرتے، امریکہ و اسرائیل کے خطہ میں حکمرانی کے خواب کبھی پورے نہیں ہونگے۔
علامہ باقر عباس زیدی نے کہا کہ گریٹر اسرائیل کافارمولے کو سخت ناکامی کا سامنا ہے، ایران کا وجود گریٹر اسرائیل کیلئے بڑی رکاوٹ ہے، امریکی صدر کی رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای بزرگ کو قتل کی دھمکی دینا مضحکہ خیز ہے، شہادت ہماری میراث ہے خدا کی راہ میں جان دینا اہلبیت علیہ السلام کی نگاہ میں عظیم سعادت ہے، اسرائیل کی نابودی حتمی ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی رجیم چینج پالیسی ایشائی ممالک کو سمجھ آگئی ہے، امریکہ کو مائی باپ سمجھنے والے اپنا ملی تشخص کھو چکے ہیں، پاکستان کو چاہیئے باری کا انتظار کرنے کے بجائے کھل کر ایران کا ساتھ دے، ایران اس وقت پورے مشرق وسطی اور جہان اسلام کی جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اگر خطہ میں ایران کو کمزور کردیتا ہے تو کل اسلامی ایشیائی ممالک بھی نہیں بچیں گے، حالیہ جنگ اسلامی ممالک اور اسلام کی بقا کی جنگ ہے، پاکستان، سعودیہ، عرب امارات سمیت تمام ممالک صہیونی عزائم کا اگلہ ہدف ہیں، صہیونیوں کا منصوبہ مکہ، مدینہ و خیبر تک اپنا مکمل اثر و رسوخ مکمل قبضہ حاصل کرنا ہے، تمام اسلامی ممالک کو بیدار ہونے اور مل کر اسرائیل سے جنگ لڑنا چاہیئے، خطہ میں اسرائیل کا وجود اس قابل نہیں کہ وہ تمام ممالک سے بدمعاشی کرے، اسرائیل کے ناپاک عزائم کے پیچھے براہ راست امریکی، برطانوی، فرانسیسی سرپرستی ہے، اسرائیل کا وجود خطہ میں خنجر کی مانند ہے۔
علامہ باقر زیدی نے مزید کہا کہ امریکہ و اسرائیل کا صہیونی ایجنڈا زمینی و سمندری راستوں پر مکمل قبضہ کرکے خطہ پر مکمل معاشی حکمرانی کرنا ہے، امریکہ و اسرائیل خطہ میں مکمل کنٹرول حاصل کرکے اپنے زیر اثر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانے کا خواب دیکھ رہیں ہیں، صہیونی یورپی ممالک پر مکمل قبضہ کرچکے ہیں، حالیہ جنگ میں یورپی ممالک اسرائیلی کے ناپاک وجود کو آکسیجن فراہم کر رہے ہیں، تمام اسلامی ممالک کو چاہیئے وہ ہر سطح پر ایران کا ساتھ دیں، اسرائیلی دہشتگردی کے خلاف یک جان ہوکر دفاع کیا جائے، ایرانی قوم عاشورائی و کربلائی عزم رکھتی ہے، امام حسین علیہ السلام نے عالم انسانیت کو یہ درس دیا کے ظالم کے سامنے سر نہیں جھکایا جاتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ و اسرائیل اسلامی ممالک اسرائیل کا علامہ باقر ایران کا کہا کہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔