اسپین نے ناٹو کے دفاعی اخراجات میں 5فیصد اضافہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میڈرڈ ( انٹرنیشنل ڈیسک)اسپین کے وزیرِاعظم نے ناٹو کے دفاعی اخراجات میں 5 فیصد اضافے کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ اس اضافے سے یورپی یونین کی بنیادی دفاعی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ناٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا کہ دفاعی اتحاد ناٹو کو دفاعی اخراجات میں اضافے کے معاملے میں زیادہ آسان فریم ورک اپنانے کی ضرورت ہے۔ خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اسپین کو اپنے ہدف کو مقرر کرنے یا اس سے استثنا کا اختیار دیا جائے۔ سانچز کا مزید کہنا تھا کہ 5 فیصد ہدف میں اضافہ ایک غیر معقول مطالبہ ہے، بلکہ اس حوالے سے کسی بھی مشترکہ حل تک پہنچنے کیلیے ناٹو کے تمام تر 32 ارکان سے منظوری لی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک خود مختار اتحادی کے طور پر ہم اس آپشن کا انتخاب نہ کی صورت میں کرنا پسند کریں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جرمن ڈیفنس چیف جنرل کارسٹن بریور کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگلے 4 سال میں ممکنہ روسی حملے کی پیش نظر ناٹو کو تیار رہنا ہوگا۔ کارسٹن بریور کا کہنا تھا کہ روس سیکڑوں ٹینک ہر سال تیار کررہا ہے جن میں بہت سے بحر بالٹک کے ناٹو ممالک کے خلاف 2029ء میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ناٹو اتحاد ہنگری اور سلواکیا کے اختلافات کے باوجود اکٹھا ہے۔ جنرل کارسٹن بریور کا مزید کہنا تھا کہ روس 152 ملی میٹر توپ کے لاکھوں گولے 2024ء میں تیار کر چکا ہے، یقیناً وہ سب یوکرین کے لیے تو نہیں ہیں۔ ناٹو کے لیے روس سے خطرے کی نوعیت سنجیدہ ہے، جو آج سے 40 سال پہلے نہیں تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ ناٹو کے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز