تعطیلات کے لیے بچت، جرمنوں کی اولین ترجیح
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 21 جون 2025ء) اشیائے صرف کی قیمتوں کا موازنہ کرنے والے ایک پورٹل Idealo نے خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو پیشگی طور پر ایک تازہ ترین مطالعہ فراہم کیا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ جرمنی میں 42 فیصد باشندے پیسے اس لیے بچاتے ہیں کہ وہ اپنی تعطیلات اور سفر کو خوشگوار طریقے سے گزار سکیں۔ یہ لوگ اپنی تعطیلات سے زیادہ کسی اور چیز پر خرچ نہیں کرتے۔
دلچسپ اعداد و شمارپورٹل Idealo کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلا کہ 39 فیصد جرمن باشندے اپنی مالیاتی ذخائر کے لیے پیسے کی بچت کرتے ہیں، 32 فیصد کی بچت کا مقصد ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کے لیے وسائل کو یقینی بنانا اور 28 فیصد جرمن سائیکل یا بڑے ٹیلی وژن وغیرہ خریدنے کے لیے پیسوں کی بچت کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
اس مطالعے میں شامل ہونے والوں میں ہر چھٹے جرمن باشندے کا کہنا تھا کہ وہ کچھ پیسوں کو الگ سے بچا کر رکھنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں تاہم وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً دو تہائی کو خدشہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر ضروریات کو پورا نہیں کر پائیں گے۔پچھلے سال 42 فیصد جرمن باشندوں کو اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے اپنی بچت میں سے پیسے نکالنا پڑے۔ اس مطالعہ کے لیے، 18 سے 64 سال کی عمر کے لگ بھگ 2,000 لوگ جو آن لائن خریداری کرتے ہیں، کو شامل کیا گیا تھا۔
عمر رسیدہ اور نوجوان جرمن صارفین میں فرقجرمنی میں سن رسیدہ باشندے لباس وغیرہ پر خرچ کرنے میں بچت سے کام لیتے ہیں جبکہ نوجوان کھانے پینے پر آنے والے اخراجات میں کفایت سے کام لیتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں واضح اضافے کے سبب جرمنی میں بہت سے صارفین اپنے پیسوں کو بہت سمجھ بوجھ کر خرچ کرنے لگے ہیں۔
مذکورہ سروے یا مطالعے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ جرمنی میں لوگ لباس، تزین او آرائش کی لوازمات، ریستورانوں اور کیفے میں پیسے خرچ کرنے سے گریز کرتے ہوئے اس طرح سب سے زیادہ بچت کر رہے ہیں۔
اخراحات کے بارے میں جن صارفین سے پوچھا گیا، ان میں سے بہت سوں نے کہا کہ انہوں نے لباس، لوازمات، رستورانوں اور کیفے میں خرچ کرنے پر سخت کنٹرول کر رکھا ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہت سے لوگ شوق اور تفریح کے سامان جیسے کہ ٹینس ریکٹ یا یوگا میٹ وغیرہ اور دیگر اشیائے صرف پر اپنے اخراجات کو بھی روک لیتے ہیں۔مہنگائی کے اس دور میں مہمان نوازی کی صنعت کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ جرمنی میں بہت سے لوگ بچت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور اشیائے صرف کے استعمال میں کمی لا رہے ہیں۔
ادارت: عاطف بلوچ
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اشیائے صرف
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ