کراچی میں کھیل کے میدان حکومتی بے حسی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
گلبرگ، نیو کراچی، لانڈھی، اورنگی اور بلدیہ میں میدانوں کی تعمیر کیلیے صرف 30 لاکھ
لیاری کرکٹ گرانڈ میں پویلین اور شائقین کی سیٹوں کی تعمیر کے لئے 33 کروڑ مختص
محکمہ کھیل سندھ نے کراچی کو کھیلوں کے میدان فراہم کرنے میں نظر انداز کر دیا، گراؤنڈز کے لئے بہت کم بجٹ مختص۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے اہم اور بڑے علاقوں گلبرگ، نیو کراچی، لانڈھی، اورنگی اور بلدیہ میں کرکٹ کے میدان کی تعمیر کے لئے صرف 30 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں، نیپا میں کھلاڑیوں کے ہاسٹل کی تعمیر کے لئے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہونگے، ناظم آباد کرکٹ اسٹیڈیم کے لئے 4 کروڑ روپے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ابراہیم حیدری میں گراسی گروانڈ کی تعمیر کے لئے 5 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں، لیاری کرکٹ گرانڈ میں پویلین اور شائقین کی سیٹوں کی تعمیر کے لئے 33 کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ محکمہ کھیل سندھ نے لیاری کرکٹ گرانڈ کے علاہ کراچی کے کسی بھی کھیل کے میدان کے لئے 10 کروڑ روپے سے زیادہ بجٹ مختص نہیں کیا، کھیلوں کے میدانوں کے لئے کم بجٹ مختص کرنے کے باعث اکثر اسکیمیں یا کھیل کے میدان مکمل نہیں ہونگے، اس کے علاہ پہلے سے موجود کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، بہتری یا کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ شائقین کی سہولیات کے لئے بھی کوئی منصوبہ شروع کیا گیا اور نہ ہی فنڈز مختص ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی تعمیر کے لئے کروڑ روپے کے میدان
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔