Jasarat News:
2026-06-03@02:26:36 GMT

فیس بک، گوگل اور ایپل کے 16 ارب پاس ورڈز لیک ہوگئے

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

فیس بک، گوگل اور ایپل کے 16 ارب پاس ورڈز لیک ہوگئے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈیجیٹل سیکورٹی کی دنیا ایک اور بڑے زلزلے سے گزر رہی ہے۔ تازہ ترین تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایپل، فیس بک، گوگل سمیت دیگر معروف سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کے تقریباً 16 ارب لاگ اِن تفصیلات اور پاس ورڈز انٹرنیٹ پر لیک ہوچکے ہیں، جسے ماہرین تاریخ کی سب سے بڑی ڈیٹا خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

فوربز میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس خوفناک سیکورٹی بریک میں شامل معلومات اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ گوگل نے باقاعدہ طور پر اپنے اربوں صارفین کو ہدایت جاری کی ہے کہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کرلیں۔

دوسری جانب ایف بی آئی نے امریکی عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ موبائل پر موصول ہونے والے کسی بھی مشتبہ لنک پر کلک نہ کریں، کیونکہ یہ خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

سائبر نیوز سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ اس لیک میں شامل 30 ڈیٹا سیٹس میں ہر ایک میں لاکھوں سے لے کر 3.

5 ارب سے زائد ریکارڈز موجود ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف ایک ڈیٹا سیٹ پہلے کبھی منظرعام پر نہیں آیا تھا، یعنی زیادہ تر معلومات نئی اور تازہ ترین ہیں، جو ممکنہ طور پر صارفین کی حالیہ آن لائن سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔

تحقیقی ٹیم نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ صرف ایک عام نوعیت کی لیک نہیں بلکہ ایک منظم استحصال کا مکمل منصوبہ ہے۔ یہ ڈیٹا فشنگ حملوں اور صارفین کے اکاؤنٹس ہیک کرنے کے لیے ’گراؤنڈ زیرو‘ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر اپنا ڈیجیٹل دفاع مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف پاس ورڈ تبدیل کرنا کافی نہیں، بلکہ ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) جیسی اضافی حفاظتی پرتیں بھی لازمی اختیار کی جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سائبر حملے سے بچا جا سکے۔

یہ صورتحال نہ صرف انفرادی صارفین بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل پرائیویسی اور سیکورٹی کے نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن کر ابھری ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار