نتھیا گلی میں ہر سال لاکھوں سیاحوں کا رخ، انتظامیہ نے ٹریفک کے مسائل کا حل نکال لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
احسن حمید جو کہ گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائیریکٹرکی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔ وی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہمارے ریکارڈ کے مطابق قریباً 6 ملین سے زیادہ سیاح ہر سال گلیات کا رخ کرتے ہیں اور ہمارے ادارے نے ان کو مختف سہولیات دینے کے لیے فیسیلیٹیشن سینٹرز بنائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب یہاں پر سیاحوں کا ہجوم زیادہ ہو جاتا ہے تو ہم مختلف جگہ پر اپنے اسٹاف کی ڈیوٹیاں لگاتے ہیں جس میں یہاں کی پولیس بھی ہمارا بہت ساتھ دیتی ہے تاکہ ٹریفک یا کسی اور قسم کے مسئلے سے لوگوں کو پریشان نہ ہونا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں سیاحوں کے لیے خوشخبری، مری کے دلکش مناظر کی سیر کراتی ٹورسٹ بس سروس کا آغاز
احسن حمید نے کہاکہ اس کے علاوہ غیر ملکی سیاحوں کو بھی ہماری طرف سے فیسیلیٹیٹ کیا جاتا ہے۔ ہمارے جو سیاحت کے مشہورمقامات ہیں وہاں پر غیر ملکی سیاحوں کے لیے پروفیشنل اسٹاف موجود ہوتا ہے تاکہ وہ ان کی رہنمائی کرسکے اور اس مقام سے متعلق معلومات دی جائیں۔ ٹورازم پولیس ہر ٹائم لوگوں کی نگرانی کرتی ہے۔
اس پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ہمارے پاس الیکٹرک کورڈز کی سہولت بھی موجود ہے جس کا بنیادی مقصد لوگوں کو آلودگی سے بچانا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا ادارہ کوشش کررہا ہے کہ پارکنگ کے مسئلے کو جلد سے جلد حل کیا جائے کیونکہ ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہاکہ جون، جولائی اور اگست میں سیاحوں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کے معاملات میں بہت سے مسائل در پیش آتے ہیں لیکن ہمارا ادارہ اس پر بھی کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں کون سے ٹک ٹاکرز پاکستان میں سیاحت کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں؟
انہوں نے مزید بتایا کہ لوگوں کو بھی چاہیے کہ سیاحت سے لطف اندوز تو ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو اس جگہ کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے جس سے ہمارا تاثر غیر ملکی سیاحوں کے سامنے بھی اچھا جائے۔ اس کے علاوہ ہماری کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ سیاحت کو فروغ دیں جس پر ہمارا ادارہ کام کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احسن حمید ٹریفک مسائل سیاح سیاحت سیاحوں کو سہولیات نتھیا گلی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹریفک مسائل سیاح سیاحت سیاحوں کو سہولیات نتھیا گلی وی نیوز انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔