او آئی سی وزرائے خارجہ کا خصوصی اجلاس،ایران اور غزہ پر جارحیت ناقابل قبول قرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول (صباح نیوز/آن لائن )عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی کی اپیل کردی۔ترکیہ کی خبر ایجنسی انادولو کے مطابق عرب لیگ نے ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کی سخت مذمت کی ہے، اور فوری طور پر عسکری کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کرنے پر زور دیا تاکہ مزید بگاڑ کو روکا جا سکے اور ایک جامع جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزشتہ روز استنبول میں ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خصوصا 13 جون سے ایران پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ حتمی بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حملہ اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کیلیے خطرہ ہے۔ وزرائے خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کی اپیل کی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ چیئرمین او آئی سی حسین ابراہیم طہ نے کہا کہ 13 جون کے بعد سے مشرق وسطیٰ ایک نئے تنازع کا شکار ہو چکا ہے، ہم ایران اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے جارحانہ اقدام خطے کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں، معاملہ اب غزہ کا یا ایران کا نہیں، معاملہ اب اسرائیل کو روکنا ہے۔ استنبول میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے چیئرمین او آئی سی نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ختم ہونی چاہئے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل ڈھونڈا جانا چاہئے، انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل سے متعلق او آئی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ نیتن یاہو حکومت خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی روکاٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے یمن، لیبیا اور شام کے بعد اب ایران پر حملہ کر دیا ہے۔اسرائیل کی ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے۔اسرائیل مسلسل خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینی مسئلہ کے دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں اسلام فوبیا کے خلاف مہم چلانی ہو گی ۔ فلسطین ہماری ریڈ لا ئن ہے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوے ترک وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ فتح ایران کا مقدر ہوگی۔ ترک عوام اپنے ایرانی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام ہم سب کو متحد کرتا ہے، مسلمان کل دنیا کی آبادی کا تین تہائی حصہ ہیں، تقسیم شدہ مسلمان کامیاب نہیں ہوسکتے، دنیا بھر میں ہمارے مسلمان بھائی مشکل میں ہیں، غزہ کے لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، اسرائیل اس وقت ایران پر حملہ آور ہے۔ انہوں نے ۔انھوں نے کہا کہ فلسطینی علاقے کا دو ریاستی حل ضروری ہے، ہم عالمی ناانصافی کے خلاف ہیں، ترکیہ او آئی سی میں تمام ممالک کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہو جائے ۔ انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اسرائیل جارحیت کی مذمت کرتے او ا ئی سی نے کہا کہ ایران پر نے ایران عرب لیگ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔