UrduPoint:
2026-07-24@07:58:08 GMT

اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2025ء) تحریک انصاف کے وفد کا ایرانی سفارت خانے کا دورہ، کہا اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی ایران کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ایرانی سفارت خانے جا کر ایرانی قوم سے اظہار یکجہتی کیا۔ اپنے ایک میں انہوں نے کہا کہ دفاع کرنا ایران کا حق ہے، اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں، ایران کا وفد جنیوا گیا ہے، امید ہے جلد امن بحال ہوگا۔

(جاری ہے)

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستانی قوم ایران کے شانہ بشانہ ہے، یکجہتی اور آگے بڑھنے کی سوچ ہو تو ملک ترقی کرتے ہیں، یکجہتی کیلیے حکومت کو پہل کرنی چاہیے۔ ہم نے ایرانی سفیر کو بتایا کہ پاکستانی حکومت، اپوزیشن اور عوام سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نے اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے یکجہتی کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں، بدقسمتی سے حکومت اور ہماری جانب سے کچھ ایسے افراد تھے جو اتفاق رائے نہیں چاہتے تھے، اتفاق رائے ہونا چاہیے تاکہ ہم مل کر آگے بڑھ سکیں۔
                                                                                                                   
                                                      .

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرتے ہیں کی مذمت نے کہا

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت