امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے ممکنہ جانشین کے لیے تین ممتاز علما کے نام تجویز کردیے ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسرائیل اور امریکا کے ساتھ کشیدگی انتہاؤں کو چھو رہی ہے، اور ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ دشمن ممالک ان کے خلاف قاتلانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ایران کے تازہ و کاری ترین حملے پر اسرائیل بلبلا اٹھا، آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کی دھمکی

’جانشینی کی فہرست میں بیٹے کا نام شامل نہیں‘

رپورٹ کے مطابق خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای جو کہ ایک معروف عالم دین اور پاسدارانِ انقلاب کے قریب تصور کیے جاتے ہیں، اس ممکنہ فہرست میں شامل نہیں۔ حالانکہ مجتبیٰ کو طویل عرصے سے سپریم لیڈر کا جانشین سمجھا جا رہا تھا۔

قبل ازیں سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو بھی خامنہ ای کے بعد اعلیٰ ترین عہدے کے لیے ممکنہ امیدوار مانا جاتا تھا، لیکن وہ مئی 2024 میں ایک المناک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔

’الیکٹرانک رابطوں پر مکمل پابندی‘

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 86 سالہ سپریم لیڈر نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکٹرانک پیغام رسانی مکمل طور پر ترک کردی ہے اور اب وہ صرف ایک قابل اعتماد مشیر کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ اطلاعات نے بھی سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سینیئر سرکاری اہلکاروں اور فوجی کمانڈرز پر موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔

’امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں اور ردعمل‘

ایران کو درپیش خطرات کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چند روز قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متنازع بیان میں کہا تھا کہ انہیں معلوم ہے آیت اللہ خامنہ ای کہاں موجود ہیں اور وہ ایک ’آسان ہدف‘ ہیں، تاہم فی الحال انہیں قتل نہیں کیا جا رہا۔

اس سے قبل رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے خامنہ ای کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن مبینہ طور پر امریکی صدر نے اس اقدام کو ویٹو کردیا۔

مزید برآں آسٹریلوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر خامنہ ای کا خاتمہ ہو جائے تو یہ جنگ کو بڑھانے کے بجائے شاید ختم کرنے کا باعث بنے گا۔

سپریم لیڈر کے وسیع اختیارات

خیال رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کا عہدہ سب سے بااختیار اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہیں بلکہ عدلیہ، پارلیمان اور انتظامیہ پر بھی ان کا بالواسطہ کنٹرول ہے۔ ان کے بعد کے جانشین کا انتخاب ایران کے مستقبل کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالے گا۔

یہ بھی پڑھیں امریکا سن لے، ایران سرینڈر نہیں کرے گا، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا دوٹوک اعلان

فی الوقت ایرانی حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آیت اللہ خامنہ ای ایرانی سپریم لیڈر جانشین نام تجویز وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای ایرانی سپریم لیڈر نام تجویز وی نیوز اللہ خامنہ ای سپریم لیڈر آیت اللہ کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر