ایس ایچ او عوامی کالونی کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(نمائندہ جسارت)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او عوامی کالونی گل حسن کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سب انسپکٹر محمد نعیم کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت جاری
کی اور ریمارکس دیے کہ پولیس افسران عدالتی احکامات کو سنجیدہ نہیں لیتے اور ان پر توجہ نہیں دیتے جس کے باعث غیر قانونی طور پر عارف حسین جیسے افراد قابض بنے ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ کورنگی سیکٹر 35-ڈی میں واقع 120 گز کا مکان خالی کرانے کے لیے حکم جاری کیا گیا تھا لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کو ایک اچھی شہرت کا حامل افسر قرار دیتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ عدالتی احکامات پر ہر صورت عمل درآمد کرایا جائے اور اس حوالے سے رپورٹ 26 جون تک عدالت میں پیش کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔