امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے خصوصی مشنز، رچرڈ گرینیل نے ٹویٹر (X) پر ایلون مسک سے اپیل کی ہے کہ وہ نے ایران میں رہنے والے امریکی دوستوں کے لیے اگلے چند ہفتوں تک اسٹارلِنک سروس مفت فراہم کر دیں، کیونکہ ان کے پاس معلومات تک باقاعدہ رسائی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’اب 2 ہی راستے ہیں امن یا شدید تباہی‘، ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے بعد قوم سے خطاب میں کیا کچھ کہا؟

یاد رہے کہ امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی کمپنی ’اسٹار لنک‘ زمینی انٹرنیٹ سے بہت محروم دور افتادہ علاقوں میں سیٹلائٹ کے ذریعے ہائی-اسپیڈ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔

اسٹارلنک کی اس سروس کے ذریعے ایران و دیگر ایسے ممالک میں عوام سرکاری سینسرشپ یا انٹرنیٹ پابندیوں کے باوجود انٹرنیٹ استعمال کر سکتے ہیں، جیسا کہ پہلے بھی جنگ زدہ علاقوں مثلاً یوکرین اور غزہ میں ہوتا آیا ہے ۔

گرینیل کی اس اپیل کا پس منظر وہ حالات ہیں جب حالیہ دنوں ایران میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہو گئی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد جس میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

گرینیل نے نشاندہی کی کہ اس نازک مرحلے میں بہرحال عوام کو معلومات تک رسائی ہونی چاہیے تاکہ وہ حقیقی خبروں سے آشنا رہیں ۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب الون مسک نے پہلے ہی اسٹارلِنک کی لائٹس ’آن‘ کرنے کی تصدیق کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹارلنک اسرائیل ایران ایلون مسک رچرڈ گرینل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹارلنک اسرائیل ایران ایلون مسک ایلون مسک

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود