محرم الحرام میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے احکامات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے محرم الحرام کے موقع پر ملک بھر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ڈسکوز کے چئرمینز اور سی ای اوز کو فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اویس لغاری نے مجالس اور جلوسوں کے مقامات پر پیشگی مرمت اور حفاظتی انتظامات کو مکمل کرنے کے احکامات دیے ہیں تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی بجلی کی بندش سے محفوظ رکھا جا سکے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ محرم کے دوران ملک بھر میں لاکھوں عزادار شرکت کریں گے، اور اس سال گرمی کی شدت میں اضافے کے امکانات بھی ہیں، لہٰذا عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈسکوز میں خراب سامان کی فوری مرمت یا تبدیلی یقینی بنائی جائے اور ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ یوم عاشورہ پر ایمرجنسی ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: جذبات میں کہہ گیا تھا کہ 6 مہینے میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
مزید برآں، وفاقی وزیر نے ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے صارفین خصوصاً امام بارگاہوں اور مساجد کو کسی بھی ممکنہ شیڈولڈ مرمت یا لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے پیشگی آگاہی دینے کی ہدایات بھی دیں۔
حساس مقامات پر اسٹینڈ بائی جنریٹرز اور یو پی ایس سسٹمز کی دستیابی کو یقینی بنانے، اور کسی بھی غیر متوقع گرڈ مسئلے کی صورت میں بیک اپ بجلی فراہم کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
محرم الحرام کے دوران تکنیکی اور آپریشنل عملے کی 24 گھنٹے دستیابی اور تمام سطحوں پر مخصوص کنٹرول سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اویس لغاری نے تمام اقدامات کی رپورٹ پاور ڈویژن کو پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجلی بلا تعطل فراہمی محرم الحرام وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی بلا تعطل فراہمی محرم الحرام محرم الحرام اویس لغاری
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘