روسی صدر کا ایران کا دفاع کرنے کا اعلان، امریکا کے اڈوں پر حملوں کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے امریکی ایئر بیسز اور فوجی اڈوں پر حملے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی روس نے اپنا جدید ترین اسلحہ، ڈیفنس سسٹم اور فوجی آلات ایران کے حوالے کرنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ فیصلہ روسی صدر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ جارحیت، اور ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی صدر کی حمایت ایران کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور آج کی رات اسرائیل اور امریکا کے لیے بہت خوفناک ثابت ہونے والی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس اور ایران خطے میں یکجہتی اور مزاحمت کا نیا باب رقم کرنے جا رہے ہیں۔
روسی صدر نے کہاکہ ہم ایران کی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے اور یہ وقت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جواب دینے کا ہے۔
روس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کے فضائی اور میزائل حملوں کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد ایران پر امریکی کارروائی نے پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے، اور ایک بڑے علاقائی تنازع کا خطرہ سنگین ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک خودمختار ریاست کی سرزمین پر اس نوعیت کے حملے چاہے جس جواز کے تحت بھی ہوں، بین الاقوامی اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب یہ حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن ملک کی طرف سے کیے گئے ہوں۔
روس کاکہنا تھا کہ ایران پر ہونے والے حملے کے تابکاری اثرات کا تعین تاحال باقی ہے، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،ایرانی تنصیبات پر حملے نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام (NPT) اور آئی اے ای اے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
روس نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر فوری اور شفاف انداز میں اس حملے پر ردعمل دیں،آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کو غیر جانبدارانہ رپورٹ جاری کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی جنگی پالیسیوں کو مسترد کرنا چاہیے،عالمی برادری کو مل کر جارحیت کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے ایران کے بعض حساس علاقوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد امریکا نے ایران کے تین اہم جوہری مقامات فردو، نطنز، اور اصفہان پر حملہ کیا، اس کارروائی میں بنکر بسٹر بموں اور ٹاماہاک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جس پر ایران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد اور بھرپور جواب دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ نے ایران ایران کے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔