جنگ بندی کے باوجود حالات خطرناک حد تک نازک ہیں، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جون2025ء)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند سیکنڈ تھے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان پر چلایا گیا میزائل جوہری ہے یا نہیں۔بلاول بھٹو نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی فوج کو یقین تھا کہ ہم جنگ جیت رہے ہیں ،ہم نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی کیونکہ امریکا نے یہ کمٹمنٹ کی کہ پاکستان اور بھارت میں تمام تنازعات پر غیر جانبدار مقام پر بات چیت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اب جب ایسا نہیں ہو رہا تو ہم نہیں چاہتے کہ عالمی برادری یہ سمجھے کہ جنگ بندی کافی ہے ،کیونکہ اب بھی بہت حقیقی خطرہ موجود ہے۔(جاری ہے)
انٹرویو میں بلاول بھٹو نے خبر دار کیا کہ جنوبی ایشیا میں خطرناک حد تک تنازعے کے قریب ہے ، پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی پر اس بنیاد پر اتفاق کیا تھا کہ امریکا دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وسیع تر سفارتی عمل کی حمایت کرے گا۔
بلاول بھٹو نے زور دیا کہ پہلگام حملے سے پاکستان کو کوئی تعلق نہیں ،بھارت نے حملے میں ملوث لوگوں کے نام اور شناخت مہیا کیے نہ سرحد پار سے مداخلت کے کوئی ثبوت دیئے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے باوجود حالات خطرناک حد تک نازک ہیں،جنگ بندی تو ہو گئی لیکن اب تک امن نہیں ہوا،یہ بات پریشان کن ہے کیونکہ رواتی جنگ ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند سیکنڈ تھے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان پر چلایا گیا میزائل جوہری ہے یا نہیں،جنگ کے آخری دن بھارت نے نیوکلئیر وارہیڈ نصب کر لیے تھے۔بلاول کا کہنا تھا کہ مغرب خطے خصوصا افغانستان میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ،دنیا افغانستان سے نکل گئی لیکن ہم اب بھی دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تھا کہ
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔