لیڈز ٹیسٹ: بھارت کو انگلینڈ پر 150 رنز کی برتری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
لیڈز: انگلینڈ کیخلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بھارت کی اپنی دوسری اننگز میں بیٹنگ جاری ہے۔
میچ کے چوتھے روز بھارت نے اپنی دوسری اننگز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز بنالیے ہیں، بھارت کو انگلینڈ پر 150 رنز کی برتری حاصل ہے۔
لیڈز میں کھیلے جارہے میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ پہل اننگز میں بھارتی ٹیم 471 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔
بھارت کی طرف سے پہلی اننگز میں تین کھلاڑیوں نے سنچریاں اسکور کیں۔ شبمن گل 147، رشبھ پنت 134 اور یشسوی جیسوال 101 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 465 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔ اولی پوپ 106 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ ہیری بروک 99 رنز بناکر آؤٹ ہونے پر سنچری سے محروم رہ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔