Daily Ausaf:
2026-07-24@11:36:45 GMT

نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کو بڑے ریلیف سے محروم کردیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کیلئے فی یونٹ 4 روپے 69 پیسے کا بڑا ریلیف مؤخر کردیا، کے ای نے اپریل کے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمی مانگی تھی۔

تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک کی اپریل کے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست پر سماعت ہوئی، کے الیکٹرک نے ایک ماہ کیلئے 4 روپے 69 پیسے کی کمی مانگی ہے۔

سماعت کے آغاز میں پاور ڈویژن نے درخواست پر سماعت کو مؤخر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک بارے میں ایک نظرثانی درخواست دائر کی ہوئی، ایف سی اے کی درخواست میں ریلیف سے یونیفارم ٹیرف نہیں رہے گا، اس وقت تک وفاقی حکومت ایف سی اے کی مد میں 21 ارب کی سبسڈی دے چکا۔

پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں اس طرح کے اقدامات مشکلات پیدا کریں گے، ایڈجسٹمنٹ کیلئے مالی گنجائش نکالنے کی کوشش ہوگی، جس پر چئیرمین نیپرا نے جواب دیا ایف سی اے کی سماعت عوامی ہوتی ہے ، آپ کی درخواست کا وقت انتہائی نا مناسب ہے، ایف سی اے کا سبسڈی کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ سبسڈی ایف سی اے کی بیچ میں کہاں سے آگئی ؟

پاور ڈویژن نے کہا کہ ہم معزرت خواہ ہیں تجزیہ کرنے میں وقت لگ گیا تو چیئرمین نیپرا کا کہنا تھا کہ یہ کونسا طریقہ ہے کہ سماعت کے دوران درخواست آئے ، جس پر پاور ڈویژن نے بتایا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں اصل ریفرنس سے ہٹ کر فیصلہ بھی آتا ہے۔

چئیر مین نیپرا نے سوال کیا سہ ماہی اور ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا آپس میں تعلق کیا ہے یہ بتائیں ؟ ساری تکنیکی بحث ہے ہم اس پر یہاں نہیں بات کر سکتے تو پاور ڈویژن نے کہا کہ ریگولیٹر کا کوئی فیصلہ بھی آتا ہے تو ٹیرف کیلئے رکھی گئی رقم کا تعین ہوتا ہے، یونیفارم ٹیرف کیلئے ایف سی اے کو بھی شامل کرنے سمری تیار کی ہے۔

حکام نے کہا کہ سمری کابینہ میں جائے گی منظور ہو جاتی ہے تو آج کی سماعت غیر مؤثر ہو سکتی ، ابھی بھی اسطرح کے اقدامات کیلئے 125 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

جس پر چئیرمین نیپرا نے سوال کیا کتنا عرصہ آپ یہ ریلیف روک سکتے ہیں دو چارہ چھ ماہ بعد کیا کریں گے ، سماعت کیلئے ریگولیٹر نے ایک طریقہ کار طے کر رکھا ہے، اخبارات میں اشتہار ہوتا ہے سماعت میں شہری شریک ہوتے ہیں، عوامی سماعت کا تاثر انتہائی غیر مؤثر کرنے کی کوشش کی جارہی۔

پاور ڈویژن کی درخواست مؤخر کرنے کی استدعا پر سی ای او کے الیکٹرک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کے الیکٹرک وہی پاس آن کرے گی جو نیپرا اتھارٹی دے گا، کے الیکٹرک کا گزشتہ سالوں ایف سی اے پازیٹو ہوتا تھا، باقی ڈسکوز کا تب ایف سی اے نیگیٹو ہوتا تھا ، جب کے الیکٹرک کے صارفین کو مہنگی بجلی ملتی تھی تب ٹیرف پر اثر کیوں نہیں پڑتا تھا، انصاف کے تقاضوں کو برقرار رکھ کر ریگولیٹر جو فیصلہ کرے ہمیں قبول ہے۔

کے الیکٹرک صارفین کے لئے 4 روپے 69 پیسے کا بڑا ریلیف موخر کر دیا گیا ، پاور ڈویژن کی درخواست پر نیپرا اتھارٹی نے سماعت مؤخر کر دی گئی۔

کے الیکٹرک کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق ریلیف کی درخواست ایک ہفتے کیلئے مؤخر کی گئی، وفاقی حکومت نے سماعت موخر کرنے کہ درخواست کی تھی۔

نیپرا نے وفاقی حکومت کا خط عوامی آراء کیلئے نیپرا ویب سائٹ پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا سماعت آئندہ ہفتے رکھی جائے گی تمام شراکت دار اپنی آراء جمع کروایں۔
مزیدپڑھیں:پر اسرار بالوں والی غار دریافت،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاور ڈویژن نے ایف سی اے کی کے الیکٹرک کی درخواست نیپرا نے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش