data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو حاصل اختیارات کا ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے اور اب 5 کروڑ روپے تک کے مقدمات میں عدالتی وارنٹ کے بغیر گرفتاری ممکن نہیں ہوگی۔ گرفتاری کا فیصلہ بھی کسی ایک افسر کی بجائے ایف بی آر کی تین رکنی کمیٹی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ 75 سال سے زائد عمر کے افراد کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جبکہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ 15 سال تک ذاتی رہائش پر ودہولڈنگ ٹیکس نہیں لگے گا، اور سرکاری سکیورٹیز پر سرمایہ کاری پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ سے واقف ہے، اسی لیے 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح صرف ایک فیصد مقرر کی گئی ہے۔ ای کامرس کے لیے سادہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے اور ان پر محدود ٹیکس عائد ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گریجویٹی پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اور نجی کاروبار کو قرض کی فراہمی میں آسانی دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، نئی صنعتی پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی، اور صرف انہی ڈیم منصوبوں پر کام کیا جائے گا جو پہلے سے منظور شدہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ بجٹ متوازن ہے اور مالی اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا