سعودی شوریٰ کونسل کے پارلیمانی وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ، پرتپاک استقبال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی خصوصی دعوت پر سعودی شوریٰ کونسل کے وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کیا ہے۔
سعودی وفد کی سربراہی میجر جنرل ریٹائرڈ ڈاکٹر عبدالرحمان بن سنہت الحربی کررہے تھے۔
پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر سعودی شوریٰ کونسل کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ اور قومی اسمبلی کے اراکین نے وفد کا استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں سعودی عرب پاکستان میں مزید 600 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، دونوں ممالک میں اتفاق
اس موقع پر سحر کامران، رعنا انصر، سید حفیظ الدین، ڈاکٹر شازیہ، ثوبیہ اسلم سومرو، فرح ناز اکبر، مسرت رفیق مہیسر، مرزا اختیار بیگ، میاں خان بگٹی، ڈاکٹر شاہدہ رحمانی اور سید ابرار شاہ بھی موجود تھے۔
قومی اسمبلی کے اعلیٰ افسران کی جانب سے سعودی وفد کو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل، ایوان کی کارروائی کے طریقہ کار اور قومی اسمبلی ہال کے تاریخی پس منظر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سعودی وفد نے اس عمل میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے سوالات کیے اور معلوماتی پہلوؤں کو سراہا۔ سعودی وفد نے پاکستانی پارلیمان کی میزبانی، بریفنگز اور وفد کی مہمان نوازی پر دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دورے کو ’یادگار اور قابلِ قدر تجربہ‘ قرار دیا۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی، جمہوری اور عوامی روابط کو فروغ دینے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی شوریٰ کونسل کے وفد کے دورے سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا اور مستقبل میں دونوں پارلیمانوں کے درمیان اشتراکِ عمل مزید مضبوط ہوگا۔
بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے سعودی شوریٰ کونسل میں قائم سعودی پاک پارلیمانی فرینڈ شپ کمیٹی کے تین رکنی وفد کے اعزاز میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ظہرانہ دیا۔
اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پارلیمانی، سفارتی اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ اور استحکام پر زور دیا گیا۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے وفد کے دورہ پاکستان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی شوریٰ کونسل کے وفد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید مستحکم بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی سعودی شوریٰ کونسل کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پر عزم ہے اور مستقبل میں وفود کے تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا۔
سعودی شوریٰ کونسل کے وفد نے ڈپٹی اسپیکر کی میزبانی پر تشکر کا اظہار کیا اور پاکستان میں ملنے والی محبت، خلوص اور عزت کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔
وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، بالخصوص پارلیمانی سطح پر قریبی تعاون کو وسعت دی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے سعودی وفد کے ارکان کو اعزازی شیلڈز پیش کیں، جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی علامت تھیں۔
سعودی وفد میں سعودی پاک پارلیمانی فرینڈ شپ کمیٹی کے سربراہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر عبدالرحمان بن سنہت الحربی اور شوریٰ کونسل کے اراکین ڈاکٹر ایمان بنت عبدالعزیز الجبرین اور انجینیئر سالم بن علی الشہرانی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں سعودی عرب پاکستان میں توقعات سے زائد سرمایہ کاری لائے گا، ولی عہد جلد کارآمد دورہ کریں گے: طاہر اشرفی
ظہرانے میں پاکستان کی جانب سے وفاقی وزرا ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، شزہ فاطمہ خواجہ اور اراکین قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک، سید نوید قمر، میر عامر علی خان مگسی، اسد عالم نیازی اور زیب جعفر نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پارلیمنٹ ہاؤس سعودی شوریٰ کونسل وفد کا دورہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ ہاؤس سعودی شوری کونسل وفد کا دورہ وی نیوز ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس کونسل کے وفد کے درمیان سعودی وفد کو مزید کا دورہ وفد کا وفد نے وفد کے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔