مشرق وسطیٰ کشیدگی: امریکا، برطانیہ اور چین کی قطر میں اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ایران کی جانب سے امریکا کو جوہری تنصیبات پر حملے کے ممکنہ جواب کی دھمکیوں کے بعد امریکا، برطانیہ اور چین نے قطر میں موجود اپنے شہریوں کو الرٹ رہنے اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں روس کھل کر امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی مدد کرے، خامنہ ای کی پیوٹن سے اپیل
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سفارت خانے نے قطر میں مقیم اپنے شہریوں کو ای میلز کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ وہ تاحکم ثانی عوامی اجتماعات سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ یہ اقدام ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہدایت پر قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال مستحکم ہے اور امریکی سفارت خانے نے کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی نہیں کی۔
ماجد الانصاری نے مزید کہاکہ قطر اپنے شہریوں اور ملک میں مقیم تمام افراد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات لینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
ادھر برطانوی حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح چین نے بھی اپنے سفارت خانے کے ذریعے قطر میں موجود چینی شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایران نے شہریوں سے واٹس ایپ اور انسٹاگرام ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا، مگر کیوں؟
خیال رہے کہ قطر کی العدید ایئربیس خطے میں امریکی افواج کا سب سے بڑا اڈہ ہے، جہاں قریباً10 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں، اور کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کی صورت میں یہ اڈہ حساس ہدف سمجھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا امریکی اڈے برطانیہ چین محفوظ مقامات مشرق وسطیٰ کشیدگی ہدایات جاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی اڈے برطانیہ چین محفوظ مقامات مشرق وسطی کشیدگی ہدایات جاری وی نیوز اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات سفارت خانے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔