آپریشن فتح کا اعلان ،ایران کے عراق ، قطر اور شام میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز

تہران /دوحا(سب نیوز)ایران نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی اڈوں پر حملہ کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملہ کیا، ایران نے میزائل حملہ کرکے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا جواب دے دیا ہے۔ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل قطر میں امریکی اڈے پر داغا گیا جبکہ دوسرا عراق میں ایک اور امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کو ایران کی براہِ راست جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق عراق میں امریکی ایئر بیس عین الاسد کا فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا، عراق میں امریکی عین الاسد بیس پر ہائی الرٹ کر دیا گیا، عین الاسد بیس پر عملے کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کر دی گئی۔

وائٹ ہاوس حکام کا کہنا ہے کہ قطر میں امریکی ایئر بیس پر حملے کی اطلاعات سے آگاہ ہیں، وائٹ ہاوس اور امریکی محکمہ دفاع صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔خیال رہے کہ قطر میں العدید ایئر بیس اور عراق میں مختلف امریکی تنصیبات خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے مرکزی مراکز ہیں۔ حملوں کے بعد ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ قبل ازیں قطر نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی، متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی۔قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی عارضی بندش علاقائی صورتحال، عوام اور غیر ملکیوں کے حفاظتی اقدامات کے تحت کی گئی ہے۔وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قطری حکومت علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ نے قطر میں اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی، برطانوی حکومت نے قطر میں اپنے شہریوں کو تا حکم ثانی محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کردی۔چین نے بھی قطر میں اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی، قطر میں چینی سفارتخانے نے کہا کہ قطر میں چینی شہری حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔اس سے قبل امریکا نے بھی قطر میں اپنے شہریوں کو محفوظ جگہوں پر رہنے کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں ایران نے شام میں واقع امریکی فوجی اڈے پر حملہ کردیا، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

ایرانی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ شام کے مغربی الحسکہ صوبے میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے، حملے کے فورا بعد امریکی فوجی اڈے کے مرکزی داخلی راستے کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔میڈیا سمیت کسی کو بھی امریکی فوجی اڈے کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جس کے باعث درست خبروں کا حصول مشکل ہوگیا ہے، تاحال حملے میں ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی اور نہ ہی کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے تہران کے قریب امریکی حملے کا نشانہ بننے والی فردو جوہری تنصیب پر نیا حملہ کیا ہے جبکہ تہران میں بجلی کی تنصیب اور جیل کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، صہیونی فوج نے ایران کے مغربی، مشرقی اور وسطی علاقوں میں واقع کم از کم 6 ہوائی اڈوں پر فضائی حملوں کا دعوی کیا ہے، ایرانی فوج نے صوبہ لورستان میں جدید اسرائیلی ڈرون مار گرایا۔ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے صوبہ قم کی کرائسس مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فردو جوہری مرکز پر ایک بار پھر حملہ کیا ہے۔الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران کے دارالحکومت کے ان علاقوں میں جہاں متعدد اسرائیلی حملوں کی اطلاعات ہیں، دھوئیں کے بڑے بڑے بادل بلند ہو رہے ہیں۔اس سے قبل، الجزیرہ نے اطلاع دی تھی کہ شہر کے شمالی حصے میں کم از کم تین بڑے فضائی حملے کیے گئے ہیں۔دریں اثنا، تسنیم نیوز کے مطابق تہران کے شمالی علاقے ایوین میں ایک بجلی کی فراہمی کا نظام (فیڈر)حملے کی زد میں آیا ہے، تاہم دارالحکومت میں کسی بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کی اطلاع نہیں ہے، خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج نے تہران میں بسیج ہیڈکوارٹر اور ایوین جیل کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے نورنیوز کے مطابق تہران کی ایوین جیل میں قید افراد کے اہلِ خانہ کو مطمئن رہنا چاہیے کہ وہ محفوظ ہیں، رپورٹ میں جیل کے داخلی دروازے پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شیئر کی گئی ہے۔اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی افواج تہران میں حکومتی اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے حملے کر رہی ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج تہران کے قلب میں حکومت کے اہداف اور ریاستی اداروں پر بے مثال طاقت کے ساتھ حملے کر رہی ہے۔الجزیرہ کے مطابق ایکس پر جاری کردہ بیان میں اسرائیل نے کہا کہ ان حملوں میں ریموٹ کنٹرول طیاروں کے ذریعے ایران کے 15 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں رن ویز، زیرِ زمین بنکرز، ایک ایندھن بھرنے والا طیارہ اور ایرانی حکومت کے زیرِ استعمال ایف-14، ایف-5 اور اے ایچ ون طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعوی کیا کہ فضائیہ نے ان ہوائی اڈوں سے پرواز کی صلاحیت اور ایرانی فوج کی فضائی طاقت کے آپریشن کو متاثر کیا ہے۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار کو ایران کے صوبہ یزد پر اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کم از کم 10 اہلکار شہید ہو گئے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملوں میں پاسداران انقلاب کے متعدد دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے، تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجمشید دستی نے بھری اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنماوں کے سامنے زمین پر ناک رگڑ دی جمشید دستی نے بھری اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنماوں کے سامنے زمین پر ناک رگڑ دی سی ڈی اے تحصیلدار کے ایریاز تبدیل ، مرزا سعید اور اظہر محمود کے پاس کون کونسے زون ہونگے ، دستاویز سب نیوز پر ایران کا شام میں امریکی فوجی اڈے پر مارٹر حملہ ایران کا قطر میں امریکی اڈوں پر حملہ،6میزائل فائر کردیے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، صحافی کے سوال پر خواجہ آصف کی کانوں کو ہاتھ لگاکر معذرت صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارت کاری میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں، ترجمان وائٹ ہاوس TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: میں امریکی اڈوں پر ایران کے

پڑھیں:

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی

امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔

اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔

اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟

یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔

کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟

راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار

ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔

متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔

جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان