Jasarat News:
2026-07-24@08:14:20 GMT

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیل کے بعد امریکا کے ایران پر حملے سے مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، گزشتہ روز امریکا نے ایران کے تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر فضائی اور میزائل حملے کیے، جس نے عالمی سطح پر ایک نئے بحران کو جنم دیا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق، بی-2 بمبار طیاروں نے فردو نیوکلیئر سائٹ پر حملہ کرتے ہوئے 30 ٹن بارود گرایا، جس سے تنصیب کو شدید نقصان پہنچا۔ اس حملے کو ’’مڈ نائٹ ہیمر‘‘ کا نام دیا گیا، جسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا بمباری مشن قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی دوران، امریکی آبدوزوں سے داغے گئے ٹام ہاک میزائلوں نے نطنز اور اصفہان میں موجود جوہری اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’انتہائی کامیاب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اب امن کی راہ اپنانی ہوگی، ورنہ مزید حملے اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہوں گے۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’اب یا تو امن ہوگا، یا ایران کو ایسی تباہی کا سامنا کرنا ہوگا جیسی اس نے کبھی نہ دیکھی ہو‘‘۔ اس حملے کے بعد امریکی وزیر دفاع اور فضائیہ کے سربراہ نے میڈیا کو بتایا کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو بات چیت کے لیے 60 دن دیے مگر کوئی سنجیدہ جواب نہ ملا، جس کے بعد یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ حملے میں صرف تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور عام شہریوں یا فوجیوں کو نقصان نہیں پہنچا۔ اس دوران، ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اسرائیلی فوج کی 14 حساس تنصیبات، کمانڈ سینٹرز، اور ریسرچ لیبارٹریز کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران کے مطابق یہ صرف ایک ابتدائی ردعمل ہے اور مزید سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور پاسداران انقلاب نے اس حملے کو امریکا اور اسرائیل کی کھلی جارحیت قرار دیا اور کہا کہ ایران اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔ قم میں کرائسز مینجمنٹ کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ فردو کے گرد و نواح میں تابکاری کے اثرات موجود نہیں اور شہری محفوظ ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے شہر یزد میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات ہیں، جن میں 9 اہلکار شہید ہوئے۔ دوسری طرف ایران کی جانب سے جاری ویڈیوز میں اسرائیلی شہروں میں میزائل حملوں کی جھلکیاں دکھائی گئیں، جن میں تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس شامل ہیں۔ داخلی طور پر بھی اسرائیلی شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جہاں بم شیلٹرز بھر چکے ہیں اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ایک وائرل ویڈیو میں تل ابیب کے زیر زمین پناہ گاہ میں مرچوں کے اسپرے کے باعث افراتفری کا منظر دیکھا گیا، جس میں بزرگ شہری شدید تکلیف میں دکھائی دیے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور ایران سے باہر کسی قسم کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی کارروائی کے خلاف ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اس جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ مجموعی طور پر، اس پیش رفت نے عالمی برادری کو ایک نئے اور خطرناک بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ جہاں سفارتی دروازے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، وہیں ایک بھرپور جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکا کے اس حملے پر بین الاقوامی ردعمل بھی تیزی سے سامنے آیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشیدگی عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اور چین نے سفارتی حل پر زور دیا جبکہ کیوبا، چلی اور وینزویلا سمیت لاطینی امریکا کے کئی ممالک نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ روس، چین اور پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک مشترکہ قرارداد پیش کی ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو ٹیلی فون کرکے امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ امریکی حملے آئی اے ای اے کے قانون اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، انہوں نے برادر ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ دوسری جانب امریکی حملے پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دی ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان سے جوڑتی ہے، اور صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہونے کے باوجود یہ دنیا بھر کے لیے توانائی کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس راستے سے دنیا کو تیل کی تقریباً 20 فی صد، اور ایل این جی کی 5 فی صد ترسیل کی جاتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران اپنا بیش تر تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔ عالمی رپورٹس کے مطابق، روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور ہر ماہ 3 ہزار سے زائد بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پہلے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں 13 فی صد اضافہ ہو چکا ہے۔ دفاعی اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک گزرگاہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کے لیے ’’رگِ جاں‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی بندش عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اس صورتحال پر امریکی وزیر خارجہ نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے، انہوں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایران کے لیے معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ ایک آزاد اور خودمختار ملک پر حملہ کسی بھی طور بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ نہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے اور امن کا نوبل انعام پانے کی خواہش رکھنے کے باجود امریکی صدر مشرقِ وسطیٰ کو عملاً جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، امریکا اور عالمی برادری کو یہ بات رکھنی چاہیے کہ ایران پر اس حملے کے ممکنہ مضمرات نہایت وسیع، پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں، جو صرف دو ممالک کے درمیان جھڑپ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس سے علاقائی اور عالمی بحرا ن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس حملے سے مشرق وسطیٰ جو پہلے ہی جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے، یہ آگ مزید پھیل سکتی ہے، اس جنگ میں چین اور روس کی شمولیت کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس جنگ کے نتیجے میں اگر ایران معاشی بحران کا شکار ہوا تو عالمی معیشت میں بھی عدم استحکام کا شکار ہوگی۔ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں کی دھجیاں اگر اسی طرح اُڑائی جاتی رہیں تو خطے میں بھڑکنے والی آگ، آگ لگانے والوں کے آشیانوں کو بھی جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کرتے ہوئے کہ ایران کے مطابق ایران کے ایران پر کہا کہ ا اس حملے سکتی ہے جنگ کے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار