قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، صحافی کے سوال پر خواجہ آصف کی کانوں کو ہاتھ لگاکر معذرت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، صحافی کے سوال پر خواجہ آصف کی کانوں کو ہاتھ لگاکر معذرت WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرنے سے معذرت کر لی۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکا کے ایران پر حملے سے پیدا صورتحال پر غور کیا گیا اور اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد جب خواجہ آصف اپنی گاڑی میں واپس روانہ ہوئے تو صحافیوں کی جانب سے بات کرنے کی کوشش کی گئی جس پر خواجہ آصف نے کانوں کا ہاتھ لگا لیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارت کاری میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں، ترجمان وائٹ ہاوس صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارت کاری میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں، ترجمان وائٹ ہاوس ایران پر امریکی حملے کیخلاف جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے قائمقام چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10سے 12فیصد اضافہ ہو گیا امریکی حملے کے بعد حکومت صدر ٹرمپ کیلئے نوبل انعام کی سفارش واپس لے،سینیٹ میں قرارداد جمع بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع، نوٹم جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قومی سلامتی کمیٹی خواجہ آصف
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔