ایران کے قطر میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈّے پر حملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردمل سامنے آگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک تازہ بیان جاری کیا ہے۔

جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوابی میزائل حملے کو "انتہائی کمزور" ردعمل قرار دیتے ہوئے ایران کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے حملے کی پیشگی اطلاع دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ہمارے ہاتھوں اپنی ایٹمی تنصیبات کی تباہی کے بعد رسمی طور پر ایک انتہائی کمزور ردعمل دیا، جس کی ہم توقع کر رہے تھے، اور ہم نے اسے مؤثر انداز میں روک بھی لیا۔

https://truthsocial.

com/@realDonaldTrump/114734424268466099

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے العدید ایئر بیس پر 14 میزائل فائر کیے گئے جن میں سے 13 کو مار گرایا گیا اور ایک میزائل "غیر خطرناک سمت" میں چلا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں میں نہ کوئی امریکی زخمی ہوا نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا۔ قطر میں بھی کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ شاید ایران نے اپنا غصہ نکال لیا ہے اور امید ہے کہ اب مزید نفرت نہیں رہے گی۔ میں ایران کا پیشگی اطلاع دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امریکی صدر نے خطے میں پائیدار استحکام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید اب ایران، خطے میں امن اور ہم آہنگی کی جانب بڑھ سکے اور میں پُرجوش انداز میں اسرائیل کو بھی یہی کرنے کی ترغیب دوں گا۔

خیال رہے کہ ایران نے قطر میں قائم امریکی ایئر بیس العدید پر میزائل داغے تھے۔ یہ حملہ امریکا کے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے شدید حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فی الحال مزید تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام