ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر حملے(قطر، بحرین، کویت،شام اور عراق میں میزائل برسا دیے )
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
قطر میں ایرانی حملے کے بعد بحرین میں خطرے کے سائرن بجنے لگے ہیں، فضائی حدود بند کردی ،سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر سائرن بجنا شروع ہوگئے
ایران نے قطر اور عراق میں ایرانی آپریشن کو فتح کا اعلان نام دے دیا، جنوبی اسرائیل میںپاور پلانٹ کو نشانہ بنانے سے بجلی بندہوگئی، کئی شہروں میں دھماکے
یران نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی اڈوں پر حملہ کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے قطر، بحرین، کویت،شام اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملہ کیا۔سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر سائرن بجنا شروع ہوگئے۔ایران نے قطر اور عراق میں ایرانی آپریشن کو ’’فتح کا اعلان‘‘ نام دے دیا۔ایران نے شام میں واقع امریکی فوجی اڈے پر حملہ کردیا، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ایران نے صہیونی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر کئی میزائل داغے ہیں جس کے بعد جنوبی اسرائیل میں ایک میزائل نے پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، کئی اسرائیلی شہروں میں دھماکے سنے گئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق آج اسرائیل پر کیے گئے حملے میں خیبر شکن ، عماد، قدر، فتاح ون میزائل استعمال کیے گئے۔ ایران نے میزائل حملہ کرکے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا جواب دے دیا ہے۔پاسداران انقلاب گارڈ نے تصدیق کی ہے کہ قطر میں امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل قطر میں امریکی اڈے پر داغا گیا جبکہ دوسرا عراق میں ایک اور امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کو ایران کی براہِ راست جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق عراق میں امریکی ایٔر بیس عین الاسد کا فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا، عراق میں امریکی عین الاسد بیس پر ہائی الرٹ کر دیا گیا، عین الاسد بیس پر عملے کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کر دی گئی۔ایران نے مغربی عراق میں عین الاسد کے مقام پر بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اس سے کچھ دیر پہلے قطر نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جب کہ تین روز پہلے یہ خبر آئی تھی کہ امریکا نے اپنے 40 جنگی جہاز العُدید کے فوجی اڈے سے نکال لیے ہیں۔قطر اور عراق پر ایرانی حملے سے پہلے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا سوشل میڈیا پر یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ہم نے یہ جنگ شروع نہیں کی نہ ہم جنگ چاہتے ہیں مگر ہم عظیم ایران پر جارحیت کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: میں امریکی اڈوں پر اور عراق میں امریکی فوجی عین الاسد فوجی اڈے کو نشانہ ایران نے کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔