ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
امریکی صدر کے مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹ رکن کانگریس آل گرین نے پیش کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر نے ایران پر حملے کیلئے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران جنگ میں امریکا کو دھکیلنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔صدرٹرمپ کے مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹ رکن کانگریس آل گرین نے پیش کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کیلئے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پیش کرنے کیلئے ٹیکساس کے رکن اسمبلی کی قرارداد پر ڈیموکریٹس بھی منقسم نظر آئے، کئی ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ تو بنایا مگر زیادہ تر نے مواخذے کی حمایت سے گریز کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مواخذے کی تحریک سے متعلق قرارداد 79 کے مقابلے میں 344 ووٹ سے مسترد کر دی گئی، 128 ڈیموکریٹس نے بھی مواخذے کے خلاف ری پبلکنز کا ساتھ دیا تاکہ قرارداد پیش نہ کی جاسکے۔ قرار داد پیش کرتے ہوئے رکن کانگریس آل گرین نے کہا تھا کہ انہیں یہ قدم اٹھانے میں خوشی نہیں تاہم کسی ایک شخص کو 30 کروڑ افراد پر غلبہ کا حق نہیں ہونا چاہیے، کانگریس کی منظوری کے بغیرجنگ میں نہیں جاناچاہیے۔
آل گرین نے کہا کہ انہوں نے یہ اقدام اس لیے کیا کیونکہ اب آئین معنی خیز ہوگا یا بےمعنی ہوجائے گا۔ آل گرین صدر ٹرمپ کے شدید مخالفین میں سے ایک ہیں اور ان کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو مطلق العنانیت کی جانب دھکیل رہے ہیں، انہوں نے مواخذے کا قدم اس لیے اٹھایا تاکہ تاریخ میں یہ بات یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اقدامات پر کم سے کم ایک رکن کانگریس نظر رکھے ہوئے تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مواخذے کی تحریک رکن کانگریس ڈونلڈ ٹرمپ کرنے کی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔