کراچی: بارش کی پیشگوئی، اقدامات کا آغاز، 60 پروازوں کو تاخیر کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
بارشوں کی پیشگوئی پر کراچی ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کراچی ایئرپورٹ پر تمام اداروں کو مون سون کے دوران چوکس رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق بارش کے دوران کیڑوں کی افزائش سے پرندوں کی سرگرمی بڑھنے کا خدشہ ہے لہٰذا ایئر سائیڈ پر انسپکٹرز اور برڈ کنٹرول اہلکاروں کی تعیناتی یقینی بنائی جائے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلی اشیاء اور سازو سامان کو محفوظ طریقے سے باندھنے یا ذخیرہ کرنے، ہلکے طیارے محفوظ جگہ منتقل یا باندھنے کے اقدامات اور بارش کے پانی کی مؤثر نکاسی کے لیے باڑ کے باہر رکاوٹیں دور کی جائیں۔
ایئرپورٹس اتھارٹی نے تمام بیکن لائٹس اور پولز محفوظ اور آپریشنل رکھنے، ایئر فیلڈ لائٹنگ ٹیم کو تمام روشنیوں کی درستگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
قومی ایئر لائن کا بھی خلیج کے لیے فلائٹ آپریشن بحال ہوگیا تاہم پروازوں میں 4 سے 13 گھنٹے تاخیر ہے۔
دوسری جانب خلیج بحران کے بعد پاکستان کے فلائٹ آپریشن میں بہتری آنے کے بعد آج کوئی پرواز منسوخ نہیں ہوئی۔ تاہم کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف ایئرپورٹس کی 60 پروازوں کو تاخیر کا سامنا ہے۔
موسمی خرابی پر مسقط سے سیالکوٹ آنے والی پرواز او وی 505 کو ملتان لینڈ کرایا گیا جبکہ اسلام آباد کی 17، لاہور کی 16، کراچی کی 14 پروازوں کی آمد و روانگی میں تاخیر کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ پشاور کی 5، سیالکوٹ کی 3، فیصل آباد، کوئٹہ، ملتان کی دو دو پروازوں میں تاخیر متوقع ہے۔
اسلام آباد سے دوحہ، دمام، شارجہ، ریاض کی پروازوں میں 6 سے 9 گھنٹے تاخیر کا خدشہ ہے۔
متبادل لینڈنگ کی وجہ سے سیالکوٹ سے مسقط جانے والی پرواز او وی 506 میں 7 گھنٹے تاخیر کا سامنا ہے جبکہ قومی ایئر کی جدہ سے کراچی کی پرواز پی کے 731 میں 7 گھنٹے تاخیر کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایئرپورٹس اتھارٹی تاخیر کا سامنا گھنٹے تاخیر
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔