جنگ کے آخری دو دن ایران سے اسرائیل کو بڑی مارپڑی: ٹرمپ کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے آخری دنوں میں ایران کی جانب سے اسرائیل کو بڑی مار پڑی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی کانفرنس میں گفتگو میں اعتراف کیا کہ جنگ کے آخری دو دن میں ایران سے اسرائیل کو بہت بُری مار پڑی ہے، ایرانی بیلسٹک میزائلز نے اسرائیل کی متعدد عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے جس سے کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے لوگ شاندار ہیں، یہ سب کے لئے بڑی کامیابی ہے، جنگ بندی ایران سمیت سب کیلئے بڑی جیت ہے، ایرانی شاندار لوگ ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ سے سویلین کو نقصان پہنچا، ایران اور اسرائیل اسکول کے بچوں کی طرح لڑے، میرا نہیں خیال کہ ایران اور اسرائیل اب ایک دوسرے سے لڑیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی تھوڑی بہت خلاف ورزی ہوئی تھی لیکن اب اسرائیل ایران سیز فائر پر اچھے سے عمل ہورہا ہے، میرے کہنے کے بعد اسرائیلی طیارے واپس آگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔