ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذہ کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان نمائندگان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔
صدر ٹرمپ پر ایران پر حملے میں اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگا کر مواخذے کی کوشش کی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹ رکن کانگریس آل گرین نے پیش کی۔ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پر ڈیموکریٹس بھی منقسم نظر آئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک 79 کے مقابلے میں 344 ووٹ سے مسترد ہو گئی۔
صدر ٹرمپ پر ایران پر حملے میں اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے اور یہ کہ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے لیے کانگریس سے منظوری نہیں لی تھی۔
اس حوالے سے رکن کانگریس آل گرین نے کہا ہے کہ مجھے یہ قدم اٹھانے میں خوشی نہیں تاہم کسی ایک شخص کو 30 کروڑ افراد پر غلبہ کاحق نہیں ہونا چاہیے،
آل گرین کا کہنا تھا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ میں نہیں جانا چاہیے، انہوں نے یہ اقدام اس لیے کیا کیونکہ اب آئین معنی خیز ہو گا یا بےمعنی ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا پہلے دور حکومت میں بھی دو بار مواخذہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی ایوان کی کوششوں کو سینیٹ نے ناکام بنا دیا تھا۔
پہلی بار صدر ٹرمپ کا مواخذہ 2019ء میں کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب انہوں نے یوکرین کے لیے فنڈز روکے تھے۔
دوسری بار ان کے خلاف کارروائی کی کوشش 2021ء میں کی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر نے کیپٹل ہل پر حملے کے لیے لوگوں کو بغاوت پر اکسایا تھا تا کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کی فتح کو روکا جائے۔
آل گرین صدر ٹرمپ کے شدید مخالفین میں سے ایک ہیں اور ان کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو مطلق العنانیت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔
آل گرین کا کہنا تھاکہ انہوں نے مواخذے کا قدم اس لیے اٹھایا تاکہ تاریخ میں یہ بات یاد رہے کہ جب صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اقدامات پر کم سے کم ایک رکن کانگریس نظر رکھے ہوئے تھے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی گئی تھی مواخذے کی ٹرمپ کا کرنے کی پر حملے کی کوشش ٹرمپ کے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔