Daily Mumtaz:
2026-06-03@00:26:26 GMT

ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذہ کی کوشش ناکام

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذہ کی کوشش ناکام

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان نمائندگان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔

صدر ٹرمپ پر ایران پر حملے میں اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگا کر مواخذے کی کوشش کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹ رکن کانگریس آل گرین نے پیش کی۔ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پر ڈیموکریٹس بھی منقسم نظر آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک 79 کے مقابلے میں 344 ووٹ سے مسترد ہو گئی۔

صدر ٹرمپ پر ایران پر حملے میں اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے اور یہ کہ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے لیے کانگریس سے منظوری نہیں لی تھی۔

اس حوالے سے رکن کانگریس آل گرین نے کہا ہے کہ مجھے یہ قدم اٹھانے میں خوشی نہیں تاہم کسی ایک شخص کو 30 کروڑ افراد پر غلبہ کاحق نہیں ہونا چاہیے،

آل گرین کا کہنا تھا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ میں نہیں جانا چاہیے، انہوں نے یہ اقدام اس لیے کیا کیونکہ اب آئین معنی خیز ہو گا یا بےمعنی ہو جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا پہلے دور حکومت میں بھی دو بار مواخذہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی ایوان کی کوششوں کو سینیٹ نے ناکام بنا دیا تھا۔

پہلی بار صدر ٹرمپ کا مواخذہ 2019ء میں کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب انہوں نے یوکرین کے لیے فنڈز روکے تھے۔

دوسری بار ان کے خلاف کارروائی کی کوشش 2021ء میں کی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر نے کیپٹل ہل پر حملے کے لیے لوگوں کو بغاوت پر اکسایا تھا تا کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کی فتح کو روکا جائے۔

آل گرین صدر ٹرمپ کے شدید مخالفین میں سے ایک ہیں اور ان کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو مطلق العنانیت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

آل گرین کا کہنا تھاکہ انہوں نے مواخذے کا قدم اس لیے اٹھایا تاکہ تاریخ میں یہ بات یاد رہے کہ جب صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اقدامات پر کم سے کم ایک رکن کانگریس نظر رکھے ہوئے تھے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی گئی تھی مواخذے کی ٹرمپ کا کرنے کی پر حملے کی کوشش ٹرمپ کے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان