لندن:

اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران جب امریکا بھی کود پڑا اور بی-2 بمبار طیاروں سے ایران کے زیرزمین انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے جوہری پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا تو دنیا بھر میں سوالات اٹھ گئے کہ کیا دنیا ایسی کوئی جگہ یا عمارت ہے جو اس طرح کے حملوں سے محفوظ ہوسکتی ہے۔

امریکا کے اس حملے کے ساتھ ساتھ چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ دنیا اب ایک اور جنگ عظیم کی طرف جا رہی ہے اور تیسری عالم جنگ چھڑ سکتی ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی بحث کے دوران اسرائیل اور امریکا کے درمیان فوری جنگ بندی کا اعلان کیا۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان وقتی طور پر جنگ بندی ہوئی ہے لیکن دونوں اطراف سے جاری دھمکی آمیز بیانات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اگر دونوں فریق کا رویہ ایسی ہی جارحانہ رہا تو یہ جنگ بندی عارضی ثابت ہوسکتی ہے اور دنیا ای مرتبہ پھر غیریقینی کا شکار ہوسکتی ہے۔

امریکا نے جدید ترین بمبار طیاروں کے حملے کے بعد دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ان کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ دنیا میں کہیں بھی اپنا ہدف حاصل کرسکتے ہیں لیکن دنیا میں ایک ایسی عمارت بھی موجود ہے جو اس طرح کے حملوں یہاں تک کہ جوہری حملوں سے بھی تباہ نہیں کی جاسکتی۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی محفوظ ترین یہ عمارت نہ تو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں صدر کی سرکاری رہائش گاہ ہے، نہ ہی چین یا روس جیسے دنیا کی سپرپاور طاقتوں کے پاس ہے۔

گوکہ یہ عمارت برطانیہ میں واقع ہے لیکن یہ عمارت بادشاہ یا برطانوی وزیراعظم یا کسی اور اعلیٰ شخصیت سے متعلق نہیں ہے اور یہ عمارت دہائیوں قبل تعمیر کی گئی تھی اور اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ عمارت دنیا کی محفوظ ترین عمارت ہے۔

برطانیہ کی ورسسٹر شائر میں واقع اس عمارت کا نام ‘ڈاکٹر ہوز مینشن’ ہے، جو خدانخواسطہ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں برطانیہ میں محفوظ ترین عمارت ہے،

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں بی بی سی نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ برطانیہ کے وسطی شہر کے مضافات میں قائم یہ عمارت کسی زمانے میں فلم ڈاکٹر ہو کے زیر استعمال رہی تھی، جو ممکنہ طور پر کسی سنگین حملے کی صورت میں بچنے کے لیے استعمال کی گئی ہوگی۔

ووڈ نورٹن ہال ورسسٹرشائر کے وسطی علاقے ووڈز میں واقع ہے اور اس عمارت کو دوسری عالم جنگ سے پہلے برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) نے خریدا تھا، بی بی سی نے یہ عمارت لندن اور دیگر حساس شہروں سے کچھ محفوظ فاصلے پر بیک اپ براڈ کاسٹنگ سینٹر کے طور پر استعمال کے لیے حاصل کیا تھا تاکہ برطانیہ پر حملے کی صورت میں محفوظ طریقے سے نشریات جاری رکھی جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق 1960 کی دہائی میں اس عمارت کو مضبوط شکل میں تبدیل کردیا گیا جو جوہری حملے کی صورت میں بھی بالکل محفوظ رہے اور اس کو پروٹیکٹڈ ایریا ووڈ نورٹن کا نام دیا گیا اور یہ عمارت ایٹمی جنگ کے دوران نشریاتی سروس بحال رکھنے کے لیے بنائی گئیں دنیا کی 11 محفوظ ترین جگہوں میں سے ایک بن گئی ہے۔

یوں نورٹن جنگلات کے بیچ تعمیر یہ قلعہ نما مینشن تیسری عالمی جنگ یا ایسی کوئی تشویش ناک صورت حال پر ایٹمی حملوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور بی بی سی اپنی نشریات بلاتعطل آسانی کے ساتھ جاری رکھ پائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی صورت میں محفوظ ترین یہ عمارت دنیا کی ہے اور

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی