Express News:
2026-07-24@16:03:31 GMT

ابھی تو بدن میں لہو ہے بہت

اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT

ایک بہت ہی چونکا دینے بلکہ لرزا اور کپکپا دینے والی خبر آئی ہے۔خبر تو حیران کن ہی ہے لیکن یہ بات بھی کچھ کم حیران کن نہیں ہے کہ’’بیانات‘‘ کے نقارے میں خبر کا یہ طوطا کیسے بولا۔کہ آج کل تو اخبارات میں بیانات ہوتے ہیں۔

اب تو اخبارات کو اخبارات کہنا بھی مناسب نہیں بلکہ اخبار بیانات کہنا زیادہ بہتر ہے۔لیکن یہ خبر شاید جگہ خالی ہونے کی وجہ سے جگہ پا گئی ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں چچازاد کے ’’فیل‘‘ ہونے کا مژدہ ہے۔ خبر یہ ہے کہ افغانستان کے شہر کابل میں پانی کی شدید قلت ہوگئی ہے اور ماہرین نے کہا ہے کہ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو کابل آیندہ پانچ سال میں’’بے آب‘‘ شہر بن جائے گا اور یہ دنیا اور تاریخ کا پہلا واقعہ ہوگا،اب یہ سب لاعلمی اور کم فہمی کا شاخسانہ ہے ورنہ یہ تو ہونا ہی تھا بلکہ اس حادثے کی پرورش بہت پہلے سے شروع ہوئی تھی، بقول قابل اجمیری  ؎

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

انگریز تو ایک لائق فائق اور مستقبل بین قوم ہے، بہت دور تک دیکھنے والی قوم ہے۔ان کو پتہ چل گیا تھا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا میں پانی کی شدید قلت ہونے والی ہے ،خاص طور پر پینے والا پانی کم پڑنے والا ہے اور دنیا کا ٹھیکیدار اور تھانیدار ہونے کی وجہ سے اسے کچھ کرنا چاہیے، پینے کے لیے پانی کا کوئی متبادل ڈھونڈنا چاہیے اور اس نے ڈھونڈ لیا۔

انسانوں کا خون۔اور پھر اس پر عمل بھی شروع کردیا۔پرسکون آرام دہ اور خواب خرگوش سونے والے افغانستان میں خون بہانے اور پینے پلانے کی وہ بنیاد ڈال دی جو آج تک مسلسل اوپر ہی جا رہی ہے، ایک جائز وارث کو تخت سے گراکر اس کی جگہ ایک نااہل کو بٹھایا، یہ اس نیک کام کی ابتدا تھی اور ہمیشہ کی طرح اس میں مذہب کے تیربہدف نسخے سے کام لیا گیا ’’ملائے شور بازار‘‘ اور’’بغدادی پیر‘ جیسے بزرگ پیدا کیے گئے۔

پھر کیا تھا ، افغانستان کی لڑکیوں کے چہرے، انگریز ماڈلز وغیرہ کے نیم عریاں جسموں پر چسپاں کیے گئے یہاں تک کہ ملکہ ثریا کی بھی ایک ایسی ہی تصویر بنائی گئی، ان تصاویر کو پورے افغانستان میں پھیلایا گیا، یوں خون ریزی بلکہ ’’خون نوشی‘‘ کی ابتدا ہوگئی۔ پیروں کی کرامات،ملاؤں کے خطابات اور ان کے پیچھے برطانوی سکے کی بے پناہ طاقت۔یہاں تک کہ ایک ان پڑھ سقہ ، چائے والا اور کرپٹ امیرحبیب اللہ خان کے نام سے حکمران بن گیا۔

اس موقع پر بھی اپنے ملک کے خیر خواہ امان اللہ خان نے اپنے عوام کو لڑانے کے بجائے درمیان میں سے ہٹ جانا بہتر سمجھا۔ لیکن ایک سلسلہ تو چل نکلا خون پینے کا۔اس کہانی میں بڑا ٹوسٹ اس وقت آیا جب جمعدار، صوبے دار اور تھانیدار نے جرمنی کو اتنا مجبور کیا کہ وہاں ردعمل پیدا ہوگیا جس کا نام ہٹلر تھا، برطانیہ تو خوش تھا کہ خون ریزی کا کام یہاں بھی چل نکلا ہے لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ہٹلر خود اسی کا شامت اعمال بن جائے گا اور اسے اتنا گھائل کردے گا، بری طرح گھائل ہوکر گرنے سے پہلے اس نے امریکا کو بلایا اور کہا،

سہر دم بتومائہ خویش را

تودانی حساب کم وبیش را

امریکا، انگریز سے بھی تیز نکلا ، اس نے ساری دنیا میں وسیع پیمانے پر خون ریزی کو اتنا فروغ دیا کہ لوگ پانی پینا بھول گئے۔ہیروشیما، ناگاساکی ،کوریا ویت نام میں تو اس نے وہ کرشمے دکھائے کہ لوگ اپنا ہی خون پینے لگے۔

اس نے دنیا بھر میں خون ریزی اور خون نوشی کو مستقل بنیاد پر استوار کرنے کے لیے پورے یورپ اور امریکا میں ہتھیار بنانے کے بڑے بڑے کارٹل اور کارخانے بنائے اور ان میں ایسے ایسے ہتھیار دھڑا دھڑ بنائے جانے لگے جو بہت وسیع پیمانے پر خون ریزی اور خون باری کرتے تھے۔

یہ سوچ بہت ہی دوربین تھی، دنیا کی دوسری پروڈکشن اگر ایک کام نہ کرے یا ایک کے کام کے مواقع نہ ہوں تو ان سے کوئی دوسرا کام لیاجاتا تھا لیکن ہتھیار صرف ایک کام کے لیے بنائے جاتے اور وہ صرف ایک کام کرسکتے ہیں، کسی دوسرے مصرف میں آہی نہیں سکتے نہ کھائے جاسکتے ہیں نہ پیئے جاسکتے ہیں نہ پہنے جاسکتے نہ ا وڑھے جاسکتے ہیں لیکن نفع آور بہت ہوتے ہیں۔ضرورت بس یہی ہے کہ اس کے لیے مارکیٹ ڈھونڈی جائے، بنائی جائے اور وسیع کی جائے۔ اور اس مارکیٹنگ کے لیے مسلمان موجود ہیں، جو پہلے ہی سے غازی اور شہید بننے کے بہت زیادہ شوقین ہیں۔یعنی نشہ ان کے سر میں پہلے ہی سے بھرا ہوا ہے۔

سنا ہوگا کہ ایک شخص نے دکاندار سے دوپیسے کی افیم مانگی تو دکاندار نے کہا، دو پیسے کی افیم سے کیا نشہ ہوگا۔ افیمی نے کہا، نشہ میرے سر میں بہت ہے، صرف ایک دھکے کی ضرورت ہے۔اور وہ دھکا لگایا جاچکا ہے، ہتھیار دھڑا دھڑ بک رہے ہیں، پیاس بجھائی جارہی ہے۔ افغانستان میں جو کام انگریز سے ادھورا رہ گیا تھا وہ امریکا نے سنبھال لیا اور ایسا سنبھال لیا کہ… برطانیہ نے اپنی بے پناہ ذہانت سے کام لے کر اندازہ کر لیا تھا کہ ایک دن روس اپنے غار سے نکلے گا اور اسی مورچے سے مارا جائے گا جو ہم بناکر جارہے ہیں۔

نہ صرف روس کو اس مورچے سے مار دیا گیا بلکہ اس پورے خطے کو مارکیٹ بنالیا گیا اور وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ اب کچھ بھی ہو ،کوئی آئے، کوئی جائے، مارکیٹ تو چلتی رہے گی، ہتھیار بکتے رہیں گے اور لوگ خون پینے کے عادی ہوتے جائیں گے اور جو ایک مرتبہ خون کے عادی ہوجاتے ہیں، ان کو پانی کی حاجت نہیں رہتی، پانی میں کیا ہے؟ ہائیڈروجن، آکسیجن وغیرہ۔جب کہ خون میں بے شمار منرلز ہوتے ہیں، وٹامنز ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔اور اس کے ساتھ وہ’’ ویمپائر‘‘ کا سلسلہ بھی تو ہے کہ جس کا خون پیا جاتا ہے، وہ خود بھی ویمپائر بن جاتا ہے۔اور اس کا زندہ ثبوت ہمارے سامنے ہے۔افغانستان سے انگریز بھی جاچکے ہیں، روسی بھی کب کے نابود ہوچکے ہیں، امریکی بھی بظاہر چلے گئے ہیں لیکن افغانستان میں خون بہانے اور پینے کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ ویمپائروں کے ڈسے ہوئے اب بھی یہاں بہت ہیں اور یہ سلسلہ مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔کوئی بات نہیں، اب اگر کابل شہر میں پانی کی قلت ہوبھی جائے تو چنتا کرنے کی ضرورت نہیں کہ خون یہاں بہت ہے، زمانوں زمانوں کے لیے۔۔۔۔ابھی تو بدن میں لہو ہے بہت۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان میں ہوتے ہیں پانی کی اور اس ہے اور تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے

 حکومت نے شہریوں کو اپنے گھروں کی مرمت، بہتری اور توسیع کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے مقصد سے "اپنی چھت، محفوظ چھت" پروگرام 2026 شروع کر دیا ہے، جس کے تحت اہل افراد کو 5 سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔حکومتی منصوبے کے تحت قرضوں کی فراہمی دو مختلف کیٹیگریز میں کی جائے گی۔ پہلی کیٹیگری میں وہ شہری شامل ہوں گے جو اپنے موجودہ گھروں کی چھتوں کی مرمت یا بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ انہیں 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جس کی واپسی 9 سال کے عرصے میں ماہانہ تقریباً 4 ہزار 700 روپے کی اقساط کی صورت میں کرنا ہوگی۔ دوسری کیٹیگری ان افراد کے لیے ہے جو اپنے گھروں کی توسیع، مثلاً دوسری منزل کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا، جس کی واپسی بھی 9 سال میں ماہانہ تقریباً 9 ہزار 300 روپے کی اقساط کے ذریعے کی جائے گی۔ آن لائن درخواست دینے کا طریقہ خواہش مند شہری "اپنی چھت، محفوظ چھت" لون اسکیم کے لیے آن لائن درخواست پنجاب حکومت کے متعلقہ پورٹل acag.punjab.gov.pk کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں کو رجسٹریشن کے لیے اپنی ضروری دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ وہ شہری جو آن لائن درخواست دینے کی سہولت استعمال نہیں کر سکتے، وہ اپنی درخواستیں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء