میٹھے آم کی پہچان کیسے کریں؟ آسان طریقہ جانیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آم کو بجا طور پر “پھلوں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے، اور اس کا یہ مقام اس کے لاجواب ذائقے کی بدولت ہے۔ تاہم اگر آم کا ذائقہ متوقع میٹھاس نہ دے، تو یہ منہ کا ذائقہ بھی خراب کر سکتا ہے۔ چونکہ بازار میں آم خریدتے وقت چکھنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے درست آم کا انتخاب اکثر ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔
لیکن چند آسان اور مؤثر طریقے اپنا کر آپ ہر بار میٹھے، پکے اور خوش ذائقہ آم منتخب کر سکتے ہیں:
نرمی چیک کریں: آم کو ہاتھ میں لے کر نرمی سے دبائیں۔ اگر آم ہلکے سے دب جائے تو یہ اس کے پکے ہونے کی علامت ہے۔ سخت آم عموماً ابھی کچے ہوتے ہیں۔
خوشبو پر توجہ دیں: آم کے اوپری حصے، یعنی جہاں اس کی ڈنڈی ہوتی ہے، وہاں سے ایک خوشگوار، میٹھی خوشبو آنی چاہیے۔ یہی خوشبو اس کی پختگی کی بہترین نشانی ہے۔
رنگ پر مکمل انحصار نہ کریں: آم کے رنگ سے اس کی پختگی کا اندازہ لگانا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ ہر قسم کے آم کی رنگت مختلف ہوتی ہے۔ اگر آپ آم کی اقسام سے واقف ہیں تو رنگ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
ساخت اور شکل کا جائزہ لیں: بھرے بھرے، گول اور ہموار آم عموماً زیادہ رسیلے اور پکے ہوتے ہیں، جبکہ پتلے، جھری دار یا سکڑے ہوئے آم خریدنے سے گریز کریں۔
کم پکے آم کو سنبھالنے کا طریقہ: اگر آم مکمل طور پر پکے نہ ہوں تو انہیں کمرے کے درجہ حرارت پر دو سے تین دن چھوڑ دیں، وہ خودبخود پک جائیں گے۔
ان چند سادہ اصولوں کو ذہن میں رکھ کر آپ ہر بار بازار سے اعلیٰ معیار کے آم خرید سکتے ہیں — جو نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہوں بلکہ آپ کی خریداری کو بھی کامیاب بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :