جڑواں شہروں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
راولپنڈی/ اسلام آباد:
مون سون کے پہلے اسپیل کے تحت جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں گزشتہ روز سے بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
بارش کے باعث جڑواں شہروں میں گرمی کی شدت میں کمی آگئی جبکہ موسم خوش گوار ہوگیا۔
گزشتہ روز سے ہونے والی بارش کے باعث اسلام آباد کا کم سے کم درجہ حرارت 24 اور راولپنڈی کا 25 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ جڑواں شہروں میں مجموعی طور 35 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
ادھر، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی پر واسا راولپنڈی ہائی الرٹ ہے اور رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ایم ڈی واسا محمد سلیم اشرف کے مطابق نشیبی علاقوں میں عملہ ہیوی مشینری کے ساتھ تعینات ہے، انڈر پاس کمیٹی چوک اور مری روڈ پر بارش شروع ہوتے ہی ہیوی مشینری پہنچا دی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سیدپور کے مقام پر 31 ملی میٹر، گولڑہ میں 23 اور بوکڑہ کے مقام پر 35 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ پی ایم ڈی میں 23، شمس آباد پر 18 ملی میٹر اور پیر ودھائی میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
ترجمان ایم ڈی واسا کے مطابق حالیہ بارشوں سے راول ڈیم اور خان پور ڈیم میں پانی کا لیول بڑھ گیا ہے۔ مون سون بارشوں سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔
نالہ لئی اور نالوں کی بروقت بھل صفائی کروائی گئی ہے۔ شہر بھر کے نالوں اور نالہ لئی کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، ابھی نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ نالہ میں کٹاریاں کے مقام پر 7 فٹ جبکہ گوالمنڈی پل پر 6 فٹ ہے، کسی بھی قسم کی ایمرجنسی سے نپٹنے کے لیے تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جڑواں شہروں کے مطابق ملی میٹر
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔