’رومانیائی زبان ‘کی پاکستان میں پہلی بار’’نمل‘‘اسلام آباد میں تدریس WhatsAppFacebookTwitter 0 26 June, 2025 سب نیوز


اسلام آباد: رومانیہ سفارت خانہ اسلام آباد، پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے: کہ پاکستان میں پہلی ’رومانیائی زبان ‘ کی کلاسز نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد میں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
یہ اقدام رومانیہ کی وزارت تعلیم و تحقیق کے ماتحت ایک عوامی ادارے ’’رومانیہ لینگویج انسٹیٹیوٹ‘‘(آر ایل آئی )اور پاکستان کی نمایاں اعلیٰ تعلیمی درسگاہ ’’نمل‘‘کے درمیان دستخط کیے گئے ایک معاہدے کے تحت عمل میں آیا ۔ نمل، عالمی زبانوں کی تدریس اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ کے لیے وقف ایک اہم ادارہ ہے۔ معاہدے پر دستخط داایانا تھیوڈورا کوئبوس، ڈائریکٹر جنرل(آئی آر ایل )، اور میجر جنرل (ریٹائرڈ) شاہد محمود کیانی، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ریکٹر’’نمل‘‘نے کیے۔
اس شراکت داری کے تحت رومانیہ لینگویج انسٹیٹیوٹ نمل کی فیکلٹی آف لینگویجز میں ’رومانیائی زبان ‘، ادب، ثقافت اور تمدن کی تدریس کے لیے ایک تربیت یافتہ رومانوی لیکچرر مقرر کرے گا۔ یہ کلاسز بطور اختیاری مضامین طلباء کے لیے دستیاب ہوں گی، جو یونیورسٹی کے لسانی و ثقافتی کورسز میں مزید وسعت پیدا کریں گی۔ رومانوی لیکچرر ثقافتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں گے اور رومانیہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔
پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئینیسکو نے کہا کہ ہم اس اہم پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں جو ہماری تعلیمی سفارت کاری، عوامی روابط اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ رومانیہ میں بھی “اردو کلاسز” متعارف کرائی جائیں گی۔ رومانیہ پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ زبان اور ثقافت اقوام کے درمیان پُل کا کام کرتی ہیں۔
’رومانیائی زبان ‘ لاطینی زبان سے ارتقا پذیر ایک رومانی زبان ہے، جو رومانیہ اور جمہوریہ مالدووا کی سرکاری زبان ہے۔ اس کے لسانی روابط فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ہسپانوی جیسی دیگر رومانوی زبانوں سے جُڑے ہوئے ہیں، تاہم اس پر رومانیہ کے جغرافیائی و تاریخی پس منظر کے باعث سلاوی، یونانی، ترکی اور ہنگرین زبانوں کا منفرد اثر بھی موجود ہے۔ اگرچہ، رومانی اور اردو زبانیں دو مختلف لسانی خاندانوں رومانی (یورپی) اور ہند آریائی سے تعلق رکھتی ہیں، تاہم ان میں کچھ دلچسپ مماثلتیں موجود ہیں۔ دونوں زبانوں نے ترکی اور فارسی سے الفاظ مستعار لیے ہیں، خاص طور پر روزمرہ کی بول چال اور ثقافتی اصطلاحات میں۔ مزید برآں، دونوں زبانیں اپنے ادبی رنگ، جذباتی اظہار اور گفتگو میں شائستگی و ادب کی اہمیت کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ اگرچہ ان کی ساخت مختلف ہے، لیکن اردو بولنے والوں کے لیے ’رومانیائی زبان ‘سیکھنا دلچسپ تجربہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں کئی ثقافتی اور لفظی پُل موجود ہیں۔
رومانیہ، یورپی یونین کا رکن ملک ہے اور تعلیم، کاروبار، اور تعلیمی تبادلوں کے شعبوں میں ایک باصلاحیت شراکت دار ہے۔ پاکستان میں ’رومانیائی زبان ‘کی تدریس اُن طلباء، محققین، اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی جو Erasmus+ اسکالرشپس، بین الجامعاتی تعاون یا یورپ میں کیریئر بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ رومانیہ میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے طلباء اور ورکرز کی بڑھتی ہوئی کمیونٹی آباد ہے، اور رومانوی زبان کا علم ان کے کامیاب انضمام اور ترقی کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
میں ’رومانیائی زبان ‘کے کورسز کا آغاز دونوں ممالک، رومانیہ اور پاکستان، کی اس مشترکہ وابستگی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ تعلیمی فضیلت، ثقافتی تنوع، اور بامعنی تعلیمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی کابینہ کا اجلاس: پیٹرولیم لیوی متعین کرنے کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کو دینے کی منظوری وفاقی کابینہ کا اجلاس: پیٹرولیم لیوی متعین کرنے کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کو دینے کی منظوری وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے فنانس بل کی منظوری دے دی ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی، نیب کی استدعا منظور مخصوص نشستیں کیس؛ ’’لگتا ہے پی ٹی آئی میں کوآرڈینیشن کا فقدان تھا‘‘ جسٹس محمد علی مظہر شنگھائی تعاون تنظیم کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پہلگام واقعے پربھارت کا موقف مسترد جس قیادت کو اپنے لوگ گالیاں دے رہے ہوں اس کے پیچھے کون نکلے گا، شیر افضل مروت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: رومانیائی زبان پاکستان میں اسلام ا باد

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان