کراچی میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایس تھری کے تحت کراچی میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ٹی پی ون اور ٹی پی فور) قائم کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایس تھری پروجیکٹ سے متعلق اجلاس ہوا۔ وزیراعلیٰ کو سی ای او واٹر بورڈ اور میئر کراچی نے بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہر کراچی میں روزانہ 400 تا 450 ایم جی ڈی ویسٹ واٹر پیدا ہوتا ہے، زیادہ تر ویسٹ واٹر لیاری اور ملیر ندیوں میں انٹریٹڈ جاتا ہے، ایس تھری پروجیکٹ سے ویسٹ واٹر کو ٹریٹ کر کے جاری کرنا ہے تاکہ ماحول اور سمندری جیوت کو محفوظ کیا جا سکے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایس تھری ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ایک مکمل انفرا اسٹیکچر ہے، جس کے منگھوپیر میں 180 ایم جی ڈی ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا ہے۔
وزیراعلیٰ کو بریف کیا گیا کہ ٹی پی ون 100 ایم جی ڈی گٹر باغیچا کے پاس قائم ہو رہا ہے، جس میں گجر اور اورنگی نالوں کا گندا پانی صاف کیا جائے گا۔ ٹی پی ون کے تحت 100 ایم جی ڈی ویسٹ واٹر کی ٹریٹمنٹ کے تحت 35 ایم آئی جی ڈی کے پلانٹ کی بحالی ہے، 100 ایم آئی جی ڈی میں سے 65 ایم آئی جی ڈی کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی توسیع ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ 35 ایم آئی جی ڈی پلانٹ کی بحالی کے کام کی پیش رفت 67 فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ نے ٹی پی ون کے تمام الیکٹرکل کام اگست 2025ء تک مکمل کرنے کی ہدایت دے دی۔
وزیراعلیٰ کو آگاہی دی گئی کہ 65 ایم آئی جی ڈی ویسٹ واٹر کی توسیع کا کام جاری ہے۔ انہوں نے 65 ایم آئی جی ڈی کے کام کو ایک سال کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دے دی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، صوبائی وزراء، سید ناصر شاہ، سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، ڈی جی پی پی پی یونٹ اسد ضامن، سیکریٹری ٹو سی ایم زمان ناریجو اور سی ای او واٹر بورڈ احمد علی صدیقی شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹریٹمنٹ پلانٹ ایم ا ئی جی ڈی ویسٹ واٹر ایم جی ڈی ایس تھری ٹی پی ون گیا کہ
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔