وزیراعلی مریم نواز کے ’’ایکو فرینڈلی پنجاب ویژن‘‘کو آگے بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جون2025ء)وزیراعلی مریم نواز شریف کے ’’ایکو فرینڈلی پنجاب ویژن‘‘کو آگے بڑھانے کے لئے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت کچرے کو توانائی اور دیگر مفید مقاصد کیلئے استعمال کیا جائیگا۔ اس بات کا فیصلہ وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔
لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کے سی ای او بابر صاحب دین نے منصوبے پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ احمر کیفی نے بھی شرکت کی۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے اگلے مرحلے میں کچرے سے بائیوگیس بنانے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں لکھو ڈیہر سائٹ کی گیسوں کو مفید کاربن کریڈٹس میں تبدیل کریں گے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ ہر روز پیدا ہونے والے کچرے کی تخصیص کر کے اسے دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے گا۔ وزیر بلدیات نے بتایا کہ صوبائی محکمہ توانائی کی مدد سے 50 میگاواٹ کا پلانٹ لگانے پر بھی غور ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کچرے کی ری سائیکلنگ کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اپنایا جائے۔ لاہور میں آلائشوں سے توانائی پیدا کرنے کا پائلٹ پراجیکٹ بھی شروع کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران کچرے سے آمدن پیدا کرنے کے لئے روڈ شو کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ایل ڈبلیو ایم سی کو ویسٹ ٹو انرجی کے بین الاقوامی ماڈلز کا مطالعہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہر روز ہزاروں ٹن کچرا روزانہ جمع ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ویسٹ کی ری سائیکلنگ سے اربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔ ستھرا پنجاب کو حقیقی معنوں میں ماحول دوست منصوبے میں تبدیل کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بائیوگیس کی تیاری سے سستی توانائی کا حصول یقینی بنایا جائے گا تاہم ہمارے پیش نظر یہ بات بھی ہے کہ ریونیو میں اضافے کے ساتھ ماحول بھی آلودگی سے زیادہ سے زیادہ پاک ہو۔ وزیر بلدیات نے بابر صاحب دین کو وزیراعلی مریم نواز شریف کے لئے پریذینٹیشن جلد تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ویسٹ کی ری سائیکلنگ کا موثر اور مفید ماڈل اپنایا جائے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر بلدیات جائے گا کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔