نیٹو چیف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو "ڈیڈی" کیوں کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
مارک رُٹے نے ٹرمپ کیجانب سے ایران اور اسرائیل کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرنے پر کہا تھا کہ کبھی کبھار "ڈیڈی" کو سخت زبان استعمال کرنا پڑتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیٹو چیف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو "ڈیڈی" کہنے پر وضاحت کر دی۔ نیٹو چیف مارک رُٹے نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ڈیڈی نہیں کہا، ان کے بیان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ ٹرمپ کو ڈیڈی کہہ رہے ہوں۔ مارک رُٹے نے کہا کہ ڈیڈی کا لفظ استعمال کیا، لیکن ان کے اصل مخاطب ٹرمپ نہیں تھے، ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ نیٹو چیف مارک رُٹے کو اُس وقت شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب انہوں نے ایران اسرائیل جنگ بندی کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے "ڈیڈی" کا لفظ استعمال کیا تھا۔ مارک رُٹے نے ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرنے پر کہا تھا کہ کبھی کبھار "ڈیڈی" کو سخت زبان استعمال کرنا پڑتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مارک ر ٹے نے نیٹو چیف ٹرمپ کو
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔