ٹرمپ کو ڈیڈی کیوں کہا؟ نیٹو کے سربراہ کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
نیٹو چیف مارک رُٹے نے صحافیوں سے گفتگو میں روانی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈیڈی کہہ گئے تھے لیکن اب اس کی دلچسپ توجیہہ پیش کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریفوں پُل باندھتے ہوئے نیٹو چیف نے انھیں عالمی مسیحا کا درجہ دیدیا تھا۔
نیٹو چیف نے صدر ٹرمپ کی یہ تعریفیں ایران جنگ کے تناظر میں کی تھیں جب امریکی فضائیہ نے تہران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے بارے میں کرخت لہجہ اختیار کرنے پر نیٹو چیف نے کہا تھا کہ کبھی کبھی ڈیڈی کو سخت زبان بھی استعمال کرنا پڑ جاتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے لفظ ’ڈیڈی‘ استعمال کرنے پر سوشل میڈیا پر نیٹو چیف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور میمز بھی بنی تھیں۔
جس پر انھیں وضاحت دینا پڑ گئی۔ نیٹو چیف نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کا وہ مطلب نہیں تھا جو بتایا اور سمجھا جا رہا ہے۔
نیٹو چیف مارک رٹے نے کہا کہ ڈیڈی کا لفظ میں نے ٹرمپ کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا تھا جسے امریکی صدر سے بلا وجہ جوڑا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیٹو چیف نے ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔