ٹرمپ اور نیتن یاہو کا غزہ جنگ 2 ہفتوں میں ختم کرنے پر اتفاق، برطانوی اخبار کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ٹرمپ اور نیتن یاہو کا غزہ جنگ 2 ہفتوں میں ختم کرنے پر اتفاق، برطانوی اخبار کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 26 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز)برطانوی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو غزہ جنگ ختم کرنے پر متفق ہو گئے، ٹرمپ اورنیتن یاہو کے درمیان ایران پر امریکی حملے کے بعد ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
برطانوی اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں جاری جنگ کو دو ہفتوں کے اندر ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ امریکی حملے کے بعد دونوں رہنماں کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں کیا گیا، جس کی تفصیلات اسرائیلی اخبار اسرائیل حیوم نے شائع کی ہیں۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کی حکومت کے خاتمے کے بعد متحدہ عرب امارات، مصر اور دو دیگر عرب ممالک مشترکہ طور پر غزہ کا نظم و نسق سنبھالیں گے جبکہ حماس کی قیادت کو جلا وطن کر دیا جائے گا اور تمام یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔اخبار کے مطابق، ٹیلیفون کال میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور اسرائیلی وزیر اسٹریٹجک امور رون ڈرمر بھی شریک تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئندہ 48گھنٹے میں ملک بھر میں بارشوں ممکنہ سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا آئندہ 48گھنٹے میں ملک بھر میں بارشوں ممکنہ سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا پاکستان میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا، یوم عاشور اتوار 6 جولائی کو ہوگا قومی اسمبلی اجلاس، وزیرِاعظم نے پی ٹی آئی رہنماوں سے ان کی نشست پر جا کر مصافحہ کیا حماس پر امداد قبضے میں لینے کاالزام، اسرائیل نے غزہ میں امداد کا داخلہ روک دیا پنجاب کا بجٹ ایوان میں کثرت رائے سے منظور، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا عمران خان سے ملاقات پر ٹیکس لگادیں، پورا پاکستان آئے گا، بجٹ خسارہ پورا ہو جائیگا، اقبال آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: برطانوی اخبار نیتن یاہو ٹرمپ اور
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔