WE News:
2026-07-24@02:14:24 GMT

کوئٹہ میں داعش کے ہاتھوں تاجر کے بیٹے کا اغوا اور قتل

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

کوئٹہ میں داعش کے ہاتھوں تاجر کے بیٹے کا اغوا اور قتل

کوئٹہ میں نومبر 2023 میں اغواء ہونے والے تاجر کے بیٹے مصور خان کاکڑ کی لاش طویل تحقیقات اور مسلسل سرچ آپریشن کے بعد برآمد کر لی گئی۔

ڈی آئی جی کوئٹہ، اعتزاز گورایا نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس واردات میں کالعدم تنظیم داعش کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: مقامی تاجر کا بیٹا اغوا، انجمن تاجران کا کل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

ڈی آئی جی کے مطابق 15 نومبر کو مصور کاکڑ کو کوئٹہ شہر سے اغواء کیا گیا تھا۔

 واقعے کی حساسیت کے پیش نظر بلوچستان حکومت نے ایک خصوصی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی، جس میں مختلف سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ادارے شامل تھے۔

جے آئی ٹی نے 19 اجلاس منعقد کیے، 2,000 گھروں کی تلاشی لی، 1,200 مقامات پر چھاپے مارے اور درجنوں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی 17 نومبر کو برآمد کر لی گئی تھی۔

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اغوا کاروں کا تعلق افغانستان اور پاکستان کے ضلع باجوڑ سے تھا، اور وہ ایران و افغانستان کے نمبرز استعمال کرتے ہوئے مغوی کے والد سے رابطے میں رہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق اغوا کار 12 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کر رہے تھے۔

معلومات ملنے پر 20 اور 22 نومبر کو کوئٹہ کے 2 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، لیکن اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مصور کاکڑ کو پہلے کوئٹہ بائی پاس کے قریب  دشت کے علاقے میں رکھا گیا اور بعد میں اسپلنجی منتقل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان: بامیان میں داعش کا حملہ، 3 ہسپانوی سیاح ہلاک

 اسپلنجی میں سرچ آپریشن کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس علاقے میں تقریباً ایک ماہ تک آپریشن جاری رہا۔

بالآخر 23 جون کو اسپلنجی میں ایک قبر کا سراغ ملا، جہاں سے ایک لاش برآمد ہوئی۔ پولیس نے والدین سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے تصدیق کی، تو لاش کی شناخت مصور خان کاکڑ کے طور پر ہوئی۔

ڈی آئی جی اعتزاز گورایا نے کہا کہ یہ ایک نہایت افسوسناک واقعہ ہے، اور تمام تر کوششوں اور وسائل کے باوجود ہم مغوی بچے کو بحفاظت بازیاب نہ کروا سکے، جس پر ہمیں شدید افسوس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اغوا کے پیچھے کوئی مجرمانہ (کرمنل) مقصد نہیں تھا، بلکہ یہ واردات کالعدم تنظیم داعش کے نیٹ ورک کا حصہ تھی۔ اغوا کاروں کو اسلحہ فراہم کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اور کیس بند نہیں کیا گیا بلکہ مزید عناصر کی تلاش جاری ہے۔

اس موقع پر حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک سانحہ ہے۔ حکومت، پولیس اور سیاسی ٹیم متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ والدین نے مکمل تعاون کیا، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود بچے کی بحفاظت واپسی ممکن نہ ہو سکی، جس پر ہم گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تاجر داعش ڈی آئی جی اعتزاز گورای کوئٹہ مصور خان کاکڑ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تاجر ڈی آئی جی اعتزاز گورای کوئٹہ مصور خان کاکڑ ڈی آئی جی کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک