اب سے پانچ برس قبل اپنی موت کی پیشگوئی کرنے والا 30 سالہ انفلوئنسر انتقال کر گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سالہ امریکی انفلوئنسر ٹینر مارٹن، جنہوں نے اپنی کینسر کی جدوجہد کو سوشل میڈیا پر دستاویزی انداز میں پیش کیا، 25 جون کو انتقال کر گئے۔

اُن کی وفات کی اطلاع اُن ہی کی ریکارڈ کردہ ایک ویڈیو کے ذریعے دی گئی، جو اُن کے انسٹاگرام اکاؤنٹ @tannerandshay پر شیئر کی گئی، جسے وہ اپنی اہلیہ شی مارٹن کے ساتھ چلاتے تھے۔

ویڈیو میں ٹینر کہتے ہیں، "ہیلو، یہ میں ہوں، ٹینر۔ اگر آپ یہ دیکھ رہے ہیں، تو میں اب اس دنیا میں نہیں رہا۔"

ٹینر کو 2020 میں 25 سال کی عمر میں آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ 2024 کی امریکن کینسر سوسائٹی کی رپورٹ کے مطابق 50 سال سے کم عمر مردوں میں آنتوں کا کینسر موت کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔

ٹینر کے سسر، اسٹیو رائٹ نے "گڈ مارننگ امریکہ" کو بتایا کہ وہ یوٹاہ میں اپنے گھر کے بیسمنٹ اپارٹمنٹ میں وفات پا گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ٹینر ایک خوش مزاج اور دوسروں کا خیال رکھنے والے انسان تھے۔

ٹینر اور شی نے IVF کے ذریعے 15 مئی کو ایک بیٹی، ایمی لو، کو خوش آمدید کہا تھا۔ اپنی آخری ویڈیو میں، ٹینر نے تمام فالوورز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُن سے نرمی، محبت اور مثبت سوچ کی تلقین بھی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی