UrduPoint:
2026-06-03@05:46:00 GMT

ایران پر دوبارہ حملے کا امکان ہے، امریکی صدر

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

ایران پر دوبارہ حملے کا امکان ہے، امریکی صدر

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جون2025ء)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو بہت بھیانک اور ذلت آمیز موت سے بچایا اور ساتھ ہی اسرائیل کو ایران پر اب تک کے سب سے بڑے حملی سے روک دیا۔ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھاکہ میں نے علی خامنہ ای کو انتہائی ذلت آمیز انجام سے بچایا۔

انہیں کہنا چاہیے تھا: شکریہ صدر ٹرمپ!انہوں نے خامنہ ای کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے لکھاکہ یہ کیسا رہنما ہے جو دعوی کرتا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ جیت لی، جب کہ وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہی ایک مذہبی رہنما کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ کے آخری مرحلے میں اسرائیل نے ایک بڑی فضائی کارروائی کے لیے طیارے روانہ کیے تھے جو براہِ راست تہران جا رہے تھے، لیکن ان کی درخواست پر انہیں واپس بلا لیا گیا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ اگر حملہ ہوتا تو تباہی کا بہت بڑا خدشہ تھا، اور ہزاروں ایرانی مارے جا سکتے تھے۔ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے ٹرمپ نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں وہ ان پابندیوں میں نرمی کی کوشش کر رہے تھے تاکہ ایران کو معاشی بہتری کا موقع دیا جا سکے، لیکن ایرانی قیادت کے جارحانہ بیانات کے بعد انہوں نے یہ کوششیں روک دیں۔ٹرمپ نے کہاکہ ایران کو عالمی نظام کا حصہ بننا ہوگا، ورنہ ان کے حالات مزید خراب ہوں گے۔ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی جاری رکھی تو وہ دوبارہ حملے پر غور کریں گے۔ٹرمپ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی یا کسی بھی معتبر ادارے کو ایران میں مکمل تفتیش کے اختیارات دینے کا مطالبہ بھی کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام