کوئٹہ، ایم ڈبلیو ایم کیجانب سے علمدار روڈ پر پرچم عباس علمدار (ع) اور پینافلیکس اویزاں
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے کارکنوں نے علمدار روڈ کے متعدد مقامات پر پینافلیکس لگائیں، جن پر سید الشہداء امام حسین (ع) کے اقوال، عاشورہ اور ماہ محرم کی اہمیت اور ایام عزاء کے سلسلے میں پیغامات درج تھے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ماہ محرم الحرام کے سلسلے میں بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایام عزاء کے پینافلیکس اویزاں اور علم حضرت عباس علمدار علیہ السلام بلند کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ سٹی کے سابق نائب صدر حاجی الطاف حسین ہزارہ کی سربراہی میں گزشتہ شب مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ سٹی کے کارکنوں نے علمدار روڈ کے متعدد مقامات پر پینافلیکس لگائیں، جن پر سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے اقوال، عاشورہ اور ماہ محرم کی اہمیت اور ایام عزاء کے سلسلے میں پیغامات درج تھے۔ کارکنوں کی جانب سے علمدار روڈ کے کھمبوں پر پرچم حضرت عباس علمدار علیہ السلام بھی لگائے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علمدار روڈ
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔