data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) نیو وحدت کالونی یونین کائونسل 127حسین آباد نشیبی علائقہ رات سے مسلسل جاری بارش کی وجہ سرکاری کواٹروں کے اندر اور باہر گلیاں اور سڑکیں اس وقت تالاب کا منظر پیش کرتی نظر آرہی ہیں۔نیو وحدت کالونی کے مین ڈسپوزل کنویں کی گزشتہ چار سال سے بلکل بھر چکا ہے جس کی صفائی کی ہم نے ڈویزنل کمشنر۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور یونین کائونسل 127حسین آباد کے چئیر مین کو 19جون کو قنکے دفتروں میں جمع کرائی تھی لیکن ضلعی انتظامیاں کی عدم توجہ اور سیوریج کنویں کی کرین سے صفائی نہ کرنے کی وجہ ہر سال کی طرحاس سال بھی مون سون بارشوں میں سرکاری کواٹررز زیر آب آگئیہیں۔ پہلی بارش نیانتظامیاں کے انتظامات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ انتظامیاں کے دعوی فوٹو سیشن تک محدود ر ہیں۔ حیدرآباد کی تمام سرکاری کالونیاں ناقص سیوریج نظام سے تباھی کا شکار بنی ہوئی ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے حیدرآباد کی سرکاری کالونیوں کے فنڈز بند کرنے کیساتھ شہباز بلڈنگ حیدرآباد کی دیکھ بھال کے فنڈز بند کردئیے ہیں سرکاری کالونیوں کیمکین عذاب والی صورتحال میں مبتلا ہیں یہ بات نیو وحدت کالونی ایکشن کمیٹی کے چئیر مین شاہد سومرو۔ وائس چئیر مین مولابخش مری اور دیگر نے نیو وحدت کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیو وحدت کالونی

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان